The novel Suno Na Sange Mar Mar By Hina Asad is a romantic Urdu novels pdf, written by a famous Pakistani novelist Hina Asad. You can download or read this novel online complete from here in PDF format.
Novel: Suno Na Sange Mar Mar
Writer: Hina Asad
Status: Completed
Intresting Part Of Suno Na Sange Mar Mar
“ھاد ۔۔۔!!!!
اس نے تیز تیز قدم اٹھا کر جاتے ہوئے ھاد کو پیچھے آواز لگائی ۔۔۔
جتنی دیر میں وہ شاہ صاحب کو مل کر باہر نکلی وہ کافی دور پہنچ چکا تھا ۔۔۔
اس کے پیچھے بھاگ کر آتی ہوئی ھادیہ کی سانسیں پھولیں ہوئی تھیں۔
“وہیں رک جاؤ ۔۔۔۔!!!!
ھاد بلوچ نے پلٹ کر سپاٹ انداز میں اسے قبیلوں کے درمیان زمین پہ کھینچی گئی لکیر کو پار کرنے سے روک دیا ۔۔۔۔
ھادیہ کا اٹھایا ہوا ایک قدم وہیں ہوا میں معلق ہوکر رہ گیا اسکے بدلے تیور دیکھ کر۔۔۔
“تم غلط راستے پر چل نکلی ہو ۔۔سوچ سمجھ کر قدم بڑھانا ۔۔ یہ وہ راستہ نہیں جو تمہارے گھر کو جائے گا ۔۔۔۔”
اس نے ابرو اچکا کر گھمبیر آواز میں کہا۔
“یہ راستہ صیحیح ہو یا غلط میں نہیں جانتی ۔۔۔۔
“مجھے ان راستوں سے کچھ لینا دینا نہیں،میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ میری منزل صرف تم ہو ۔۔۔۔”
“تم تک پہنچنے کے لیے جوبھی راستہ اختیار کرنا پڑا کر جاوں گی “
وہ بے خوفی سے بولی ۔۔۔
“ھادیہ تم وہ چاند ہو جسے چھونے کی خواہش میں مجھے نجانے کتنے صحراؤں کو پار کرنا پڑے ۔۔۔نجانے کتنی لاشوں پہ قدم رکھ کر گزرنا پڑے،میں ہماری وجہ سے کسی بے گناہ کی موت نہیں چاہتا ،میں اپنی آنکھوں کے سامنے کسی کو مرتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔مجھے ہماری محبت کا انجام سوچ کر خوف آنے لگا ہے، کیا تمہیں خوف نہیں آرہا ؟؟؟”
“ھاد اگر خوف کی زنجیر میرے پاؤں میں بندھی ہوتی تو آج میں اس بنائی گئی لکیر کو پار کر کہ کبھی تمہارے پاس نہیں آتی “
وہ بے دھڑک ہوکر کر قدم اٹھاتے ہوئے بنائی گئی لکیر کو پار کیے ھاد بلوچ کی جانب آئی ۔۔۔۔
“ھاد تمہارے لیے میں ہر خوف کی دہلیز کو پار کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں ،
“کیا تم ہمارے پیار کے لیے اس خوف کی زنجیر کو توڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ؟؟؟”
اس نے بھی اسی کے انداز میں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ھادیہ ۔۔۔!!!
“مجھے لگنے لگا ہے اس تپتے ہوئے صحرا میں ہمارا پیار بھی دم توڑ جائے گا ۔۔۔۔دیکھو یہاں دور دور تک صرف ریت ہی ریت ہے ،کہیں منزل کا نشاں نہیں ۔۔۔۔اس نے ھادیہ کی نظریں صحرا کی جانب مرکوز کروائیں ۔۔۔
“ہم دونوں کا ساتھ ہی ہمیں ہماری منزل تک لے جائے ۔۔۔اکیلا مسافر تو بھٹک جاتا ہے ،
“ھاد میں اس صحرا ِ محبت کی اکیلی مسافر بن کر بھٹکنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔ “
وہ آنکھوں میں آس لیے تڑپ کر بولی۔۔۔۔
“ھادیہ ہمارے قبیلوں کے درمیان دشمنی کی جو دیواریں کھڑی ہیں ،انکا کیا “؟
اس نے محبت کے جوش میں بہتی ہوئی ھادیہ کو حقیقت سے روشناس کرایا۔۔۔۔۔
“محبت کی طاقت کے آگے بڑی بڑی دیواریں تو کیا پہاڑ بھی گر جاتے ہیں “
“تم چاہو تو بُھلا سکتے ہو مجھے ۔۔۔۔لیکن جب ایک عورت کسی سے دل سے محبت کرتی ہے تو وہ ساری زندگی اسے بھلا نہیں سکتی ۔۔۔۔مجھ میں تمہیں بھلانے کا حوصلہ نہیں ۔میں مٹ جاوں گی ،مگر تمہیں کھو دینے کی ہمت نہیں “
اس بار اسکے لہجے میں بے بسی شامل تھی ۔۔۔۔
“جیسے اس صحرا میں ہر پیاسے کو الوژن میں پانی دکھائی دیتا ہے ،ویسے ہی ہم بھی اس سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں “
وہ شکست خوردہ سا مسکرایا۔۔۔
“ھاد ۔۔۔!!!
“یہ خدا کی رضا تھی جو ہم یوں ملے ،،،ہمارے اس ملن میں اسکی کوئی نا کوئی تو کار فرمائی شامل ہوگی نا۔۔۔۔”
“مثبت سوچو ۔۔۔اگر ہم چاہیں تو اس دشمنی کو محبت میں بھی تو بدل سکتے ہیں ،
اس نے اپنے تئیں ایک دلیل پیش کی ۔۔۔
“اور اگر ہمارے رشتے کو کسی نے قبول نا کیا تو “؟
وہ اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر وحشت زدہ آواز میں بولا۔۔۔۔۔
“تو کیا تم میرے لیے اپنا گھر اپنے گھر والے سب چھوڑ سکتی ہو “؟
اس نے من میں آیا سوال پوچھ ڈالا۔۔۔
“میری دنیا تم بن گئے ہو ھاد ۔۔۔تمہارے لیے وہ گھر تو کیا میں تو یہ دنیا بھی چھوڑ سکتی ہوں “
وہ محبت سے چور آواز میں بولی۔۔۔۔
اسکا جواب سن کر وہ سرشاری سے مسکرایا ۔۔۔۔
“تم سے ملکر میں اپنی زندگی سے ملا ہوں ،مجھے لگا میں مکمل ہوگیا ہوں بلوچن سائیں۔۔۔۔!!!!
وہ اسکے دوپٹے کا پلو پکڑ کر اس میں سے پھوٹتی مہک کر سانسوں میں اتارتے ہوئے دلکش انداز میں بولا ۔۔۔۔
ھادیہ کے چہرے پہ طمانیت بکھر گئی اس کو یوں مسکراتے دیکھ کر ۔۔۔۔
نکاح کے بعد یارم اور بابر،،چاہت کی بھی اپنے ساتھ پاکستان روانگی کے لیے بندوبست کرنے نکل گئے تھے ۔
وہ رات گئے واپس چاہت کے گھر آیا ،جیسے اس نے دروازہ کو کھٹکھٹانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ تو وہ کھلتا ہی چلا گیا ۔۔۔کیونکہ اندر سے لاکڈ نہیں کیا گیا تھا ۔کچھ دیر پہلے صوفی اور اسکے گھر والے اسے الوداع کیے واپس اپنے فلیٹ میں جا چکے تھے ،
جیسے ہی اس نے فلیٹ میں قدم رکھا ٹھٹک کر رک گیا، کیونکہ اندر گھپ اندھیرا تھا۔اس نے تیزی سے سوٸچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لاٸیٹس روشن کیں ، پلک جھپکتے ہی پورا فلیٹ روشنی میں نہا گیا۔وہ آگے بڑھا، کچھ گھنٹوں پہلے بنی اپنی بیوی کو دیوار کے ساتھ لگے فرش پہ بیٹھے ہوئے سسکتا دیکھا تو اسے اچنبھا ہوا وہ سرعت سے چند قدموں کا فاصلہ طے کر کے اس کے قریب گیا ۔۔۔۔
”کیاہوا ایسے کیوں بیٹھی ہیں آپ۔۔۔۔۔؟“ لیکن جواب ندارد۔۔۔
وہ اس کو ایسی کنڈیشن میں دیکھ کر کافی پریشان ہوگیا تھا۔لیکن اس کے وجود میں کوٸی جنبش نہ ہوٸی۔ وہ فکرمندی سے اس پر جھکا اور اس کے چہرے کو تھپتھپا کر پوچھنے لگا۔۔
”طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی۔۔۔؟“ اس نے اپنی نیلی نمکین پانیوں سے بھرے نین کٹوروں سے اس کی طرف دیکھا۔اس اجنبی کو اپنے لیے فکرمند دیکھ کر چاہت کی آنکھوں میں مزید نمی گھلنے لگی ۔۔۔ لیکن بولی پھر بھی کچھ نہیں۔شاید اس میں بولنے کی سکت ہی نہیں تھی۔
”کیا ہوا ؟ رو کیوں رہی ہیں آپ ؟ کچھ بتاٸیں تو سہی پلیز۔۔۔“ اس نے ملاٸمت سے پوچھا۔
”مجھے بھائی کے پاس جانا ہے ۔۔۔“ وہ دھیرے سے بولی۔
”لیکن آپ وہاں نہیں جا سکتیں ۔۔۔؟“ وہ زیادہ پریشان ہوا۔۔
” یہ دیکھ کر کہ وہ انجانے میں اس کے لیے دکھ کا باعث بن چکا ہے ۔۔“
”کیوں نہیں جا سکتی میں وہاں ۔۔ “ وہ اس کی بات سے الجھ گئی تھی ۔
”مجھے برو کے بنا نیند نہیں آتی جب تک میں ان سے بات نا کر لوں ۔۔۔۔۔“ وہ کھوۓ کھوۓ لہجے میں بولی۔۔۔
”آپ پلیز روئیں مت اور اٹھیں یہاں سے آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی ۔“
”انکل ۔۔!۔۔۔“ آپ جائیں یہاں سے ۔جا کر برو کو لائیں ۔۔۔
“ابھی نہیں لا سکتا میں “
“اور تیار ہو جائیں ہماری ٹکٹس کنفرم ہو چکیں ہیں اب آپ میرے ساتھ چلیں گی “
آدم کی اتنی دیر کی غیر موجودگی سے وہ اچھی خاصی ڈپریسڈ ہوچکی تھی۔۔۔۔۔لیکن پھر وہ نارمل لہجے میں بولا۔
“مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سنننی ۔آپ جائیں یہاں سے۔۔۔مجھے بس میرے برو چاہیے ۔۔۔لاکر دیں ۔۔۔کہیں سے بھی ۔۔۔آپ گندے ہو انکل جاؤ یہاں سے ۔”
وہ اپنی ہتھیلی کی پشت سے اپنے گالوں کو بےدردی سے رگڑتے روتے ہوئے حلق کے بل زور سے ِچّلائی ۔۔۔۔۔شدت غم سے چہرہ سرخی مائل ہونے لگا تھا۔اس کی بات پہ پہلے تو یارم بلوچ کی صبیح پیشانی پہ سلوٹیں نمودار ہوئی۔اس نے سختی سے مٹھیاں بھینچ کر اپنے آپ کو قابو کیا ۔۔۔۔اور گہرا سانس لیتے ہوئے تاثرات میں نرمی لائی ۔۔۔۔
“آپ مجھے میرے برو کے پاس لے کر جائیں گے تو ہی میں یہاں سے جاؤں گی ورنہ نہیں جانا مجھے کہیں بھی ۔۔۔وہ یہیں آئیں گے میرے پاس ۔۔۔انہیں پتہ ہے میں یہاں اکیلی ہوں ۔”
اس نے ہچکیاں بھر کر روتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
یارم نے اس کا مخملیں نازک سا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں بھر لیا۔۔۔۔
کچھ تو اس کا ڈاکٹری پیشہ بھی ایسا تھا ،اور کچھ اپنے کیے کا پچھتاؤا۔۔۔۔
اس نے اس نازک گلاب سی لڑکی کی مسیحائی کرنے کی ایک موہوم سی کوشش کی ۔۔۔
“آپ اکیلی نہیں ہیں ,میں ہوں نا آپ کے ساتھ “
“جیسے آپ اپنے بھائی سے ہر چیز کی خواہش کرتی تھی ،مجھ سے کرنا ،میں پوری کروں گا سب ،
“آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو بلا جھجھک مجھے کہہ سکتی ہو ،یارم بلوچ نے پہلی بار میٹھے لہجے میں بات کی تو چاہت کی آنکھوں کی پتلیاں چند لمحوں کے لیے حیرت سے ساکت ہوئیں ۔۔۔۔
پھر وہ نرم سہارا پاتے ہی اس کے بڑھائے ہوئے ہاتھ پہ سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رودی۔یارم بلوچ نے آہستہ آہستہ سے دوسرے ہاتھ سے اس کے سنہری بال سہلانے شروع کردیے۔یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئی۔
یارم نے بے بسی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔اس طرح کی سچوئیشن کا پہلی بار سامنا کیا تھا ۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیسے دلاسہ دے ۔۔۔۔
“جلدی سے اپنی پیکنگ کرلیں ،کچھ دیر میں ہماری فلائیٹ ہے اور جو بھی ضرورت کی چیز ہو وہ رکھ لیں ۔باقی اگر کچھ چاہیے ہوگا تو میں لے دوں گا “
اس نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پہ نظر ڈالی تو چاہت سے کہا ۔۔۔۔
اس نے سر اٹھایا تو چہرہ آنسوؤں سے تر تھا ۔۔۔۔
“جاؤ فیس واش کرو اور پیکنگ کرو “
یارم کے دھیمے لہجے میں بات کرنے کا اثر تھا ۔۔۔شاید جو وہ نا چاہتے ہوئے بھی آہستگی سے اٹھ کر آنسو پونچھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
رات دو بجے کی فلائیٹ تھی ،یارم اسے اپنے ساتھ ائیر پورٹ پہ لے آیا ۔
اور اسے سٹنگ ایریا میں بٹھا کر خود نجانے کہاں چلا گیا تھا ۔۔۔۔
چاہت وہاں سر جھکائے بیٹھی تھر تھر کانپ رہی تھی ،اتنے لوگ اس کے ارد گرد موجود تھے ،وہ گھبرا رہی تھی ،پہلی بار اکیلی اتنے ہجوم والی جگہ دیکھ کر اسے ڈر لگ رہا تھا اس لگا کہ ہر کوئی صرف اسے ہی دیکھ رہا ہے ،جیسے ہی یارم سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔وہ دوڑتے ہوئے اس کے پاس گئی ۔۔۔
یارم نے نا سمجھی سے اسے دیکھا جس کی چہرے پہ خوف کی پرچھائیاں نمایاں تھی ،وہ سہمی ہوئی ہرنی کی مانند خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اسکے پاس آتے ہی اس نے یارم کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا ۔۔۔۔
یارم بلوچ نے محسوس کیا اس کا ہاتھ انتہائی ٹھنڈا تھا اور اسکی مضبوط گرفت میں آنے کے بعد بھی بری طرح کپکپا رہا تھا۔۔۔۔
وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا جو نظریں چکمتے ہوئے فرش پہ مرکوز کیے لرز ہی تھی ۔۔۔۔
“کیا یہ واقعی اتنی معصوم ہے ؟؟؟؟یا ۔۔۔۔میری نظروں کا دھوکہ ؟؟؟
وہ ان دونوں خیالات میں سے سچ کی تصدیق نہیں کر پایا ۔۔۔
“کیا ہوا اتنا ڈر کیوں رہی ہیں آپ “؟
اس نے چاہت کے ڈرے ہوئے چہرے کو دیکھا ۔جو سرخ شال میں اچھی طرح لپٹا ہوا تھا لیکن اس کی گھبراہٹ اور کپکپاہٹ اسے صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“I….. w.. scared….
وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں مسلتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور گھبرائی ہوئی آواز میں بمشکل بولی ۔
“Let’s go”
یارم نے اسکا ہاتھ چھوڑے بنا اسے اپنے ساتھ لیے روانگی کے راستے کی طرف بڑھا ۔۔۔
دونوں ایک ساتھ پلین میں داخل ہوئے تو یارم نے اسے ونڈو کی طرف بٹھا کر اسکی سیٹ بیلٹ باندھ دی ۔پھر اسکے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جیسے ہی جہاز نے اڑان بھری ۔۔۔۔اس نے خوف سے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا ۔۔۔۔اور گلے سے نکلنے والی چیخوں کا گلے میں ہی دم گھونٹ دیا ۔۔۔۔کیونکہ وہ پہلی بار پلین کا سفر کر رہی تھی ۔۔۔یہ سب اس کے لیے بالکل نیا تھا ۔۔۔۔
“سنو ۔۔۔!!!!
یارم نے اسکی حالت کے پیش نظر اسے مخاطب کیا ۔۔۔
چاہت نے اسکی گھمبیر آواز سن کر دو انگلیاں آنکھوں سے ہٹا کر اسے نیلے نینوں کے جھروکوں سے دیکھا ۔۔۔
یارم کے بھنچے ہوئے لبوں پہ محض لحظہ بھر کے لیے مبہم سی مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔ساتھ ہی وہ سنجیدہ ہوگیا ۔۔۔۔
اور اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔
“Don’t worry…”
چاہت نے درزیدہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔
اس نے ائیر پورٹ سے نکل کر ایک پرائیوٹ کار ہائیر کی اور اسی پہ وہ چاہت کو حویلی کی طرف لے جا رہا تھا ،سکول کالج اور یونیورسٹی کے لگنے کا وقت تھا ،راستے میں جیسے
گاڑیوں کا سیلاب امڈ آیا تھا،سب کو اک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جلدی مچی ہوٸی تھی، لیکن اک وہ ہی تھا جس کی گاڑی کی سپیڈ بلکل کم تھی، اور گاڑی کی کم سپیڈ سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس کے خیالات کی سپیڈ کہاں تک پہنچی ہوٸی ہے؟ وہ اس کے برابر والی سیٹ پر مجرموں کی طرح چپ چاپ سی سرجھکاۓ بیٹھی تھی، وہ بے دلی سے ڈراٸیو کر رہا تھا ، ڈراٸیو کرتے ہوۓ اچانک ہی اس کی نظر اپنی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے وجود پر پڑی تو اس کے لب پھینچ گٸے تھے،
وہ مظلوم تھی ۔۔۔جیسے اس ایک رات نے یارم کی زندگی بدل دی تھی ویسے ہی اس لڑکی کی زندگی بھی تو ایک رات میں بدل گئی تھی ،دونوں کی زندگیاں نیا موڑ اختیار کر گئیں ۔۔۔۔چند سیکنڈ اس کو دیکھنے کے بعد اس نے دوبارہ ونڈو سکرین پر نظریں جما کر گیٸر بدلا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی، سپیڈ اتنی تیز تھی کہ چند منٹ میں ہی اس نے بہت سی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑ دیا، اتنی تیز گاڑی چلتی دیکھ کر چاہت بھی چونکی اور اس کی طرف دیکھا جو لب بھینچے سختی سے سٹٸیرنگ پر ہاتھ جماۓ ڈراٸیو کر رھا تھا، وہ اس کے چہرے کو دیکھ کر کچھ بھی اندازہ نہیں لگا پاٸی تھی کہ وہ کیا سوچ رہا تھا۔اور کس موڈ میں تھا۔۔۔
گاڑی شہر کی حدود سے نکل کر اب خالی سڑکوں سے ہوتی ہوئی انجان راستوں پہ رواں دواں تھی ،پہلے پلین کا سفر پھر گاڑی میں اتنا لمبا سفر طے کیے چاہت اب اکتانے لگی تھی ۔۔۔۔۔
“نجانے سفر کب ختم ہوگا “؟
وہ پوچھنا چاہتی تھی اس سے مگر پوچھ نا سکی خاموش رہی ۔۔۔۔۔اس میں ہمت ہی نہیں ہوئی اس کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر کچھ پوچھنے کی۔
“برو پتہ نہیں کب واپس آئیں گے ؟”
۔یہی سوچتے ہوئے وہ چونک گئی ،کیونکہ گاڑی کے ٹاٸیر بہت بری طرح سے چرچراۓ تھے،اور گاڑی بہت ہی عالیشان و خوبصورت حویلی کی کشادہ اور وسیع روش پر اک جھٹکے سے رکی تھی۔سردار یارم بلوچ اپنی طرف کا ڈور کھول کر باہر نکل آیااور چاہت کی طرف آکر اس طرف کا ڈور بھی کھول دیا، وہ اترنے میں دیر کرتی لیکن اس کے سنجیدہ موڈ کے پیش نظر وہ فوراً اتر آٸی تھی ، اس کے پیچھے اس نے دھڑام سے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔
”آئیں میرے ساتھ ۔۔۔“ وہ اس کو اس کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے خود بھی آگے بڑھ گیا تھا،اس کے قدم مضبوط تھے لیکن وہ سست رفتاری سے چل رہی تھی۔۔
وہ بیرونی گیٹ عبور کر کے لان سے ہوتے ہوئے لاونج میں داخل ہوۓ تھے۔
لاؤنج میں روشنیوں سے جگمگاتے فانوس لٹک رہے تھے جن کی چکا چوند سے آنکھیں چندھیا جا رہی تھیں ۔۔۔۔ وہ سنگ مرمر کے فرش پر چلنے کا عادی تھا اس لیے اسکو کوٸی ڈر نہیں تھا اور نہ اس کے لیے یہ روشنیاں اور یہ سنگ مر مر نیا نہیں تھا، جبکہ چاہت کے لیے یہ سب نیا تھا،اسلیے وہ ڈر ڈر کر آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہی تھی، اسے لگ رہا تھا کہ جیسے روشنیاں فرش کے اندر سے نکل رہی ہیں ۔ جن پر پاٶں رکھتے ہوۓ وہ ڈر رہی تھی، اس کو ڈر تھا کہ اگر وہ تیز چلی تو اس چکنے فرش پہ پھسل کر گر جاۓ گی۔ اس کی سست رفتار دیکھ کر وہ رک گیا اور پھر پیچھے مڑ کر اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیا تھا ، اور دوبارہ قدم اندر کیطرف بڑھاۓ،وہ اس کے ساتھ گھسٹتی چلی گٸی ، اب تو آہستہ قدم اٹھانا دشوار تھا اگر وہ ایسے کرتی تو یقیناً گر جاتی۔۔
”آتش ۔۔۔!!!ھاد ۔۔۔۔!!!!کوئی فون لگاؤ مارے لاڈ سا کو پوچھو اس سے کب آرہا ہے ۔۔۔۔؟“ زرش بلوچ کی جھنجھلاٸی ہوٸی آواز اس کو لاونج میں ہی سناٸی دے رہی تھی اور وہ سمجھ گیاتھا کہ وہ اس کی بات کر رہی تھیں،لیکن اس کو حیرت نہیں ہوٸی تھی، یہ تو ہونا ہی تھا،اتنے دن جو ہوگئے تھے اسے اپنی واپسی کا بتاتے ہوئے مگر وہ آکے ہی نہیں دے رہا تھا اور ادھر اس کی ماں کتنے دنوں سے اسکی واپسی کی راہ تک رہی تھی ۔۔۔۔
”اسلام وعلیکم ماں سا “ اس نے لاٶنج میں داخل ہوتے ہوۓ انہیں مخاطب کیا تھا،۔۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔!!!
زرش بلوچ اسکی جانی پہچانی آواز سن کر تقریبا دوڑتے ہوئے اس تک آئیں یارم بلوچ تھوڑا جھکا تو زرش بلوچ نے اسے جواب دے کر اسکی پیشانی پہ پیار بھرا بوسہ دیا۔۔۔وہ ہمیشہ یونہی ملتا تھا ان سے ۔۔۔۔
”یہ ۔۔۔یہ لڑکی ک۔۔کو۔۔۔کون ہے ؟…“انہوں نے یارم کے پیچھے کھڑی ہوئی لڑکی کو دیکھا تو جھٹکا کھا کر پلٹیں ‘ لیکن قدم اور زبان وہیں تھم گٸے تھے،کیونکہ یارم کے ساتھ جو لڑکی تھی وہ مغربی لباس ۔جینز اور شرٹ پہنے اس پہ سرخ رنگ کی بڑی سی شال میں لپٹی کھڑی تھی،
زرش بلوچ نے غور کیا اُس کا ہاتھ یارم کے ہاتھ میں تھا ۔۔ یارم کے ساتھ لڑکیوں کا ہونا بڑی بات نہیں تھی، کیونکہ وہ ڈاکٹر تھا ۔تو شہر اور گاؤں میں کافی لڑکیوں کے ہاتھ پکڑ کر ان کا چیک اپ کرتا تھا ۔۔۔۔ مگر یہاں بات چیک اپ کی نہیں کچھ اور ہی معلوم ہورہی تھی ۔زرش بلوچ کا فورا سے بیشتر ماتھا ٹھنکا۔۔۔۔
اس لڑکی کا حلیہ اور یارم بلوچ کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ ان کو حیرت و پریشانی میں مبتلا کر گیا،ان کا یہ انداز بہت کچھ کہہ رہا تھا۔۔
”یارم ۔۔۔۔!!!! کون ہے یہ۔۔۔۔؟“ زرش بلوچ آگے بڑھیں اور انہوں نے سوال کیا،وہ مزید صبر نہ کر سکیں۔۔
”یہ میری بیوی اور آپ کی بہو چاہت یارم بلوچ ۔۔“ اس نے بہت سکون سے ان کے سر پر دھماکہ کیا تھا،
وہ جانتا تھا کہ ان کے لیے یہ خبر کسی جھٹکے سے کم نہیں ہوگی ۔کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اس کی ماں نے اسکی شادی کے لیے کتنے خواب دیکھ رکھے تھے ۔۔۔
”کیا ۔۔۔۔؟۔۔۔۔بیوی ؟؟؟“ان کو دو ہزار والٹ کا کرنٹ لگا تھا ۔۔
“یارم اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے تم نے ایک بار بھی گواراہ نہیں کیا کہ اپنے والدین سے پوچھ لو ۔۔۔”؟
“یا تمہیں ہماری رضامندی سے خفگی کی کوئی پرواہ نہیں تھی “؟
فلک بلوچ جو شام کے کھانے کے لیے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آرہے تھے یارم بلوچ کو سامنے پاکر سرشاری سے اس کی طرف بڑھے تھے ۔اسے اپنی شادی کا بتاتے دیکھ ان کے قدم وہیں رک گئے ۔۔۔۔انہوں نے بارعب آواز میں اس سے استفسار کیا۔۔۔۔
“بابا سائیں ۔۔۔!!!! میں نے اس سے نکاح کرلیا ہے۔۔۔“
” بس حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ میں نے یہ نکاح کرلیا ۔۔۔۔۔اس نے بہت اطمینان سے بتاتا ۔۔۔۔
“مگر مجھے یہ ولایتی لڑکی بہو کے طور پہ بالکل قبول نہیں “
زرش بلوچ نے درشت آواز میں کہا ۔۔۔۔
“ماں سا ۔۔۔!!!
“آپ تو ماں ہیں میری آپ تو سمجھیں مجھے۔۔۔۔آپ نے ہمیشہ میری چھوٹی سے چھوٹی خواہش پوری کی ہے تو پھر اسے بھی میری خوشی سمجھ کر قبول کرلیں “
کبھی جنّت کا میں سوچوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
محبّت لفظ جو پڑھ لوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
تم ہی تو روکتی تھی ہر برائی اور شر سے ماں
کبھی غلطی سے جو بہکوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
تمہی تو پونچھتی تھی ماں میری آنکھوں کے سب آنسو
میں خود ہی اشک جو پونچھوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
مجھے جب زخم لگتے ، تھے تو کیسے تم تڑپتی تھی
میں اپنے زخم اب دیکھوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
مجھے ڈر جب بھی لگتا تھا تو تم ہی تھامتی تھی ماں
کبھی جو ڈر کے میں لیٹوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
میرے ہر درد کی ساتھی ، میری تو رازداں تھی تم
میں خود سے راز جو کہہ لوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
بہت اکثر ، بہت زیادہ ، بہت ہی یاد آتی ہو
کبھی تنہا جو میں بیٹھوں ، تو ماں تم یاد آتی ہو
“لاڈ سا ہر خواہش پوری کرنے کے لیے نہیں ہوتی “
وہ نفی میں سر ہلا کر بولیں ۔۔۔
“مگر ماں سا ۔۔۔!!!!
یارم بلوچ نے بولنا چاہا۔۔۔
مگر زرش بلوچ نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے روک دیا ۔۔۔
“تو اب اس کل کی آئی چھوکری کی وجہ سے اپنی ماں سے لڑے گا ۔۔۔۔نہیں رہے گی وہ یہاں ؟”
وہ بھی خفگی سے منہ پھلا کر بولیں۔۔۔۔
“ماں سا یہ میری بیوی ہے اور میرے ساتھ اسی گھر میں رہے گی ۔۔۔۔یارم بلوچ نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا زرش بلوچ نے تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے چاہت کو دیکھا۔۔۔۔
جو اس سچویشن کے لیے قطعا تیار نہیں تھی ۔ایک تو سب انجان لوگ پھر ان کی غیض و غضب ناک نگاہوں کا سامنا کرنا اسے دوبھر لگا ۔۔۔ اسے لگا کہ اگر یارم نے اس کا ہاتھ اپنی نرم گرم مضبوط گرفت میں نا لیا ہوتا تو ابھی تک وہ خوف کے باعث زمیں بوس ہوچکی ہوتی ۔۔۔۔
“کتنے خواب سجائے تھے میں مارا لاڈ سا آئے گا تو اپنی پسند سے اس کی شادی کروں گی ۔تو نے مارے سارے ارمان ہی توڑ ڈالے ۔۔۔۔۔اسے گھر سے باہر نکال دے ۔۔۔مجھے نہیں چاہیے یہ ولایتی بہو “
انہوں نے غم و الم سے دوچار لہجے میں کہا۔۔۔۔
“اگر اس کے لیے اس گھر میں جگہ نہیں تو ٹھیک ہے میں بھی اسے اپنے ساتھ لے کر یہاں سے چلا جاتا ہوں “
یارم بلوچ نے کھڑے کھڑے فیصلہ سنا دیا۔۔۔۔
”ہوش میں تو ہو تم۔۔؟“ اب کی بار فلک بلوچ گرجدار آواز میں پوچھا تھا،
”جی الحمدللہ میں مکمل ہوش وہواس میں ہوں۔۔
یارم کا پختہ لہجہ سب کو چونکا گیا ۔۔۔
حویلی میں اونچی آواز سن کر ھاد بلوچ اور آتش بلوچ کے ساتھ ساتھ ملازمین بھی باہر نکل آئے ۔۔۔
“بابا سائیں پسند کی شادی کرکہ بھائی سا نے کوئی جرم تو نہیں کیا “
ھاد بلوچ نے سارا معاملہ سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر یارم بلوچ کی طرف داری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
“بابا سائیں ۔۔۔۔ماں سا ۔۔۔۔پلیز اگر بھائی سا نے شادی کرلی ہے تو ان دونوں کو معاف کر کہ بھابھی سا کو کھلے دل سے قبول کرلیں “
آتش بلوچ نے بھی اپنی بات کا ٹکڑا لگایا ۔۔۔
“تم دونوں تو ہمارے بیچ میں نہ ہی بولو تو اچھا ہوگا ۔۔فلک بلوچ نے قطعی لہجے میں کہہ کر ان کو خاموش کروایا۔
”یہ کیا مذاق ہے یارم ۔۔۔؟“
“اس لڑکی کے لیے تم اپنے والدین کو چھوڑ کر چلے جاؤ گے ؟”
اب کے فلک بلوچ چلتے ہوٸے اس کے سامنے آگئے۔۔
”میرا آپ کے ساتھ کوٸی مذاق نہیں میں اس سے نکاح کر کہ اپنے ساتھ لایا ہوں۔۔یہ میری ذمہ داری ہے اب ۔۔”
”کون سی بیوی اور کیسا نکاح؟ تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ یہ کون ہے ؟ کہاں سے آٸی ہے؟ ہم نہیں جانتے ، یہ جہاں کا گند ہے اس کو وہیں پھینک کر آٶ۔ابھی اور اسی وقت۔۔“زرش بلوچ غصیلی آواز میں دھاڑی ۔۔۔۔
”بس ۔۔۔بہہہت ہوگیا ماں سا ۔۔۔“ اس نے یکدم غصے سے اونچی آواز میں کہا ،
”شاذیہ ۔۔۔۔شازیہ۔۔۔؟“ اس نے ملازمہ کو آواز دی۔
”جی صاحب ۔۔۔۔۔ ! ۔۔۔۔۔۔“وہ ڈوری چلی آئی اس کی ایک آواز پر ۔
” انہیں ۔۔۔۔میرے کمرے میں چھوڑ آؤ ۔۔۔۔
“جی صاحب۔۔۔۔!….”
وہ مؤدب انداز میں بولی ۔۔۔
”یہ لڑکی میرے گھر میں نہیں رہے گی ۔۔۔“ زرش بلوچ چنگھاڑتی آواز میں بولتے ہوئے غصے پھنکار کر آگے بڑھیں ۔۔
فلک بلوچ نے زرش بلوچ کو فی الفور چپ ہوجانے کا اشارہ کیا۔۔۔
یارم بلوچ ڈھال بن کر اس کے سامنے کھڑا ہوا اور کپکپاتی ہوئی چاہت کو اس ملازمہ کے ساتھ اپنے کمرے میں بھجوا دیا ۔۔۔
چاہت اسکے پیچھے پیچھے شکستہ وجود لیے چلتی چلی گئی۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے ہم تمہاری بیوی کو اس حویلی کی بیوی کا رتبہ دیں گے ۔فلک بلوچ نے سپاٹ انداز میں کہا۔۔۔۔
زرش بلوچ اپنے سر کے سائیں کی بات پہ بل کھا کر رہ گئیں ۔۔۔۔
تو یارم کے چہرے پر چھائی سختی پہ تھوڑی کمی ہوئی ۔۔۔
“مگر ۔۔۔۔وہ کرخت آواز میں بولے ۔۔۔
یارم نے چونک کر یکلخت انکی طرف حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔
“اب تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گے ،یہیں رہ کر ہماری خاندانی روایات کو برقرار رکھو گے ،
“کل صبح سارے گاؤں کے سامنے تمہاری دستار بندی کی جائے گی ۔میرے سارے فرائض تم سنبھالو گے کل سے ۔
اگر تو میری شرط منظور ہے تو یہیں رہو ۔۔۔
“ورنہ ۔۔۔۔
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوئے پھر بولے ۔۔۔
یارم کا ہر عضو ۔۔۔۔آلہ ء سماعت بنا انکی بات سن رہا تھا ۔۔۔۔
“ورنہ منہ اندھیرے اپنی بیوی کو لے کر یہاں سے کہیں دور چلے جاؤ ۔اور تمام زندگی کبھی واپس لوٹ کر نا آنا ۔۔۔ میں وصیت کردوں گا کہ تمہیں اپنے مرے ہوئے ماں باپ کا منہ بھی نا دیکھنے دیا جائے ۔۔۔۔ “
وہ اٹل انداز میں بولے ۔۔۔
“اتنی بڑی بات آپ نے کیسے آسانی سے کہہ دی “
یارم بلوچ نے تاسف بھرے انداز میں کہا ۔۔۔۔
“مجھے تمہارا فیصلہ سننا ہے ….!!!
وہ پشت پہ بازو باندھے سپاٹ انداز میں بولے ۔۔۔۔
“بابا سائیں میں نے اسپیشلائزیشن اس لیے کیا ہے کہ میں یہاں گاؤں سرداری کرتا پھروں ؟؟؟
“کیا فائدہ میرا اتنا پڑھنے کا ۔۔۔۔؟؟؟
“آپ میرے ساتھ اس طرح نہیں کرسکتے ….اس نے اپنے حق میں آواز اٹھائی ۔۔۔۔
“مجھے دلیلیں نہیں چاہیے تمہارا فیصلہ جاننا ہے “
وہ ابھی تک اپنی بات پہ بضد تھے ۔۔۔۔
یارم بلوچ کے لیے یہ فیصلہ لینا انتہائی کٹھن امر ثابت ہو رہا تھا ۔۔۔
ایک طرف اسکی ڈگری اسکی تعلیم و خواب تھے ،جبکہ دوسری طرف اسکے والدین ،،،
“ٹھیک ہے جیسا آپ چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا “
اس نے دل پہ پتھر رکھ کر فیصلہ لیا ۔۔۔
”یہ لڑکی ہے کون؟ کس خاندان کی ہے۔؟” اب کے زرش بلوچ نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
”وہ لڑکی پہلے کون تھی ؟ کہاں تھی؟ اس بات سے آپ کو کوٸی سروکار نہیں ہونا چاہیے، نہ ہی مجھے کوٸی ایشو ہے، وہ اب میری بیوی ہے، میں اس کو پسند کرتا ہوں اور میں نے اپنی پسند سے اس سے شادی کی ہے، یہ گھر جتنا میرا ہے اتنا اس کا بھی ، اب یہ لڑکی اس گھر سے کہیں نہیں جاۓ گی۔ ادھر ہی رہے گی میرے ساتھ میرے کمرے میں۔۔۔“ وہ بڑی مضبوطی اور ثابت قدمی سے اس کے سامنے ڈٹ گیا تھا،اور زرش بلوچ اپنے سامنے ڈھال بن کھڑے اپنے ہی بیٹے کو دیکھتی رہ گٸی تھی۔
اور رُکھائی سے کہتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
گھر میں عجیب تناؤ بھرا ماحول پیدا ہوگیا ۔۔۔۔سب یاسیت سے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔