The novel Shiddat E Ashqui Novel By Zoya Shah is a romantic Urdu novels pdf, written by a famous Pakistani novelist Zoya Shah. You can download or read this novel online complete from here in PDF format.
Novel: Shiddat E Ashqui
Writer: Zoya Shah
Status: Completed
Intresting Part Of Shiddat E Ashqui
اسنے سنجیدگی سے اپنی بند آنکھوں کو کھولا تھا جب ہوا کا خنک جھونکا اسے چھو کر گزرا تھا اسنے لمبا سانس ہوا کے سپرد کیا تھا اور ہاتھ میں لئے ہوئے پھولوں کی پتیوں کو قبر پر ڈالا تھا اور آس پاس کی قبروں پر بھی ڈالا تھا
“ڈیڈ بہت اکیلا ہو گیا ہوں میں آپکے جانے کے بعد سے ” وہ گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا اپنے بابا کی قبر کو دیکھتا دھیمے لہجے میں بولا تھا
“میری زندگی میں سب بےرنگ سا ہے وہ رونقیں وہ خوبصورت لمحات وہ سب کہاں چلے گئے ہیں ڈیڈ آپ ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے میرا ذی سٹرونگ ہے میں نے ویسا بننے کی کوشش کی ڈیڈ لیکن اس دل کا کیا کروں جسے سکون نہیں مل رہا جو مجھے مظبوط اور کٹھور نہیں بننے دیتا ” وہ سپاٹ لہجے میں اپنی ہی شکایت اپنے بابا سے کر رہا تھا سکون کے لئے وہ اکثر یہاں آتا تھا آج بھی وہ کچھ پل سکون چاہتا تھا اس لئے یونیورسٹی سے سیدھا یہاں آیا تھا
“سیرت میں جان بستی ہے میری ایک وہ ہی تو ہے میرے پاس آپکی نشانی لیکن وہ میری بات نہیں سنتی ڈیڈ وہ بہت ضد کرتی ہے لمظ کی طرح” وہ شکایت کرتے ہوئے بہت دور نکل آیا تھا اور اس بات کا اندازہ اسے تب ہوا تھا جب اسکا نام اسکے لبوں پر آیا تھا اسکی شہد رنگ آنکھوں میں ایک طوفان اٹھا تھا
اسنے سنجیدگی سے لب بھینچے تھے اور پھر اٹھتا ہوا واپس اپنی کار کی جانب بڑھ گیا تھا
پرس کو صوفے پر گراتے ہوئے وہ صوفے پر نڈھال سی ڈھے گئی تھی
“اب کیا ہوا ” کسی نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
“بالاج میں بات نہیں کرنا چاہتی” وہ آنکھیں بند کئے بولی تھی اسنے کندھے اچکاتے ہوئے وسکی کا گلاس لبوں سے لگایا تھا
“مجھے بھی چاہیے ” وہ آنکھیں کھولتی بولی اسنے دوسرے گلاس میں ڈال کر اسکی جانب بڑھایا تھا جسے وہ جازب نظروں سے دیکھتے ہوئے لبوں سے لگا چکی تھی
“پھر سے اسنے لفٹ نہیں کرائی ہو گی” وہ طنزیہ لہجے میں بولا تھا جبکہ اسکی بات اسے اندر تک کاٹتی چلی گئی
“بالاج حد میں رہو دوست ہو دوست بن کر رہو بکواس کرنے کی ضرورت نہیں” وہ درشتگی سے بولی تھی وہ کندھے اچکا گیا تھا
” اوہ چاہ مائی لوو کیا میں صرف دوست ہوں ؟ ہمارے ریلیشن شپ کو بھول گئی تم ؟!” وہ طنزیہ لہجے میں بولا تھا اسنے خالی گلاس کو غصے سے نیچے پھینکا تھا جو ٹکڑے ٹکڑے ہوا تھا
“اوکے آئی انڈرسٹینڈ تمھیں اسوقت صدمہ لگا ہوا ہے اوپر سے تم نے پی لی ہے جسٹ ریلیکس بےبی” بالاج نے اسکے بال سہلاتے ہوئے کہا
“تمھیں پتا ہے وہ مجھے قریب نہیں آنے دیتا مجھے شدید غصہ آتا ہے بالاج” وہ دانت پیستے ہوئے تعصب زدہ لہجے میں بولی وہ وسکی پیتے ہوئے اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا
“پھر اسنے نکاح کیوں کیا تھا تم سے میری جان اتنی حسیں چیز سے دور بھاگ رہا ہے دیکھو بےوقوف ہی تو ہے وہ” وہ اسکی تحسین و ستائش کرتے ہوئے بولا تھا
“لیکن مجھے وہی چاہیے ہر صورت اور آج میں نے اسے دھمکی دی ہے کہ گھر بتا دے یا مجھ سے شادی کر لے” چاہت نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تھا
“ہو سکتا ہے ہمارے بارے میں جانتا ہو اور تمھاری بیماری کے بارے میں بھی اور اب تم سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہو” بالاج نے سوچتے ہوئے کہا
“تم میرے ایکس ہو اور یہ بات کبھی مت بھولنا تمھارے پاس صرف اس لئے آتی ہوں کیونکہ تم میری بات سنتے ہو ایک دوست کی طرح سمجھے اور خبردار جو تم نے میری کنڈیشن ایسے اوپن میں ڈسکس کرنے کی حماقت کی مجھے کوئی بیماری نہیں ہے سمجھے” چاہت نے سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے سختی سے کہا جس پر وہ ہنس پڑا تھا
“تمھارا ٹریٹمنٹ چل رہا ہے مائی لوو پچھلے کتنے سالوں سے چل رہا ہے؟! اور تم ایک دوست کے پاس آدھی آدھی رات کے وقت اپنے غم بانٹنے آتی ہو افف چاہ مائی سوئیٹ کپ کیک میں تو سمجھ ہی نہیں سکتا تمھیں آخر تم چاہتی کیا ہو مجھ سے”
“اپنی بکواس بند کرو شراب تمھارے دماغ میں گھس چکی ہے” اسے خشک نظروں سے دیکھتی ہوئی اپنا پرس اٹھا کر وہ کلب سے نکل گئی تھی وہ وسکی کے گھونٹ بھرتا ہنسا تھا
“آئیذل آؤ بیٹا بیٹھو ہمارے پاس” آصف صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے پاس چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا وہ سر پر دوپٹہ درست کرتی ہوئی انکے قریب بیٹھی تھی
“طبیعت کیسی ہے ” آصف صاحب نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
” ہم ٹھیک ہیں ماموں آپ کیسے ہیں” وہ سر جھکاتی تہزیب سے بولی آصف صاحب مسکرائے تھے
“ہم بھی ٹھیک ہیں بیٹا یونیورسٹی میں سب کیسا چل رہا ہے ” آصف صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا
“سب نارمل چل رہا ہے ماموں” وہ مختصر بولی آصف صاحب نے سر ہلایا تھا
“بیٹا یہ فون رکھ لو میں نے آج ہی منگوایا ہے یونیورسٹی میں کبھی دیر ہو جاتی ہے یا کوئی مسئلہ ہو تو فون کر لیا کرو میں خود آ کر لے جایا کروں گا” آصف صاحب نے ایک سادہ سا فون اسکی طرف بڑھایا تھا
“نہیں ماموں اسکی کیا ضرورت ہے ” وہ ہچکچائی تھی کیونکہ عائزہ بیگم نے اسے آنکھیں دیکھائی تھی
“نہیں بیٹا رکھ لو ” آصف صاحب نے اسکے ہاتھ میں فون تھمایا تھا وہ لب بھینچ کر عائزہ بیگم کو دیکھ گئی جو کڑوے گھونٹ بھر رہی تھی اسے دیکھ کر
“شکریہ ماموں” وہ نظریں جھکاتے بولی آصف صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر سر ہلایا تھا وہ اٹھتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی بیگ سے کتابیں نکالتے ہوئے وہ منجمد ہوئی جب اسکی نظر اسکے آف وائٹ رومال پر پڑی تھی ایک ہلکی مسکان نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا اسنے مسکراتے ہوئے رومال اٹھایا تھا اسکی ہلکی مہک نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے مسکرا گئی تھی
“Ok, I will never address you in this tone again. Please stop crying. You look terrible crying like that”
اسکی مسکان مزید گہری ہوئی تھی جب اسکے کہے گئے الفاظ اسکی سماعت سے ٹکرائے تھے وہ مسکراتے ہوئے پینسل اور کچھ پیپر نکال کر کھڑکی کی طرف بڑھی تھی ٹھنڈی ہوا نے اسکا استقبال کیا تھا کرسی کھینچ کر اسنے کھڑکی میں رکھی تھی اور ٹیبل پر پیپر رکھتے ہوئے گہری مصروفیت سے کچھ بنانے میں مصروف ہوئی تھی
“یہاں تو آپ مجھے نہیں ڈانٹ سکتے میں جتنے چاہوں آپکے سکیچ بنا سکتی ہوں پروفیسر” وہ ہلکی سی مسکرائی اور خود سے بڑبڑاتے ہوئے مہارت سے پینسل کو پیپر پر پھیرنے لگی
چُھپ چُھپ کر دیکھتی ہے تیری تصویر کو…!!
لگتا ہے کُچھ ہو گیا ہے، رانجھے تیری ہیر کو!!
ناجانے کتنی دیر وہ سکیچ بناتی رہی
“آئیذل ” ریحم کی آواز سن کر اسنے جلدی سے سکیچ کو بکس میں چھپایا تھا اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی
“ہمت کیسے ہوئی سیرت کو عسکری کارپوریشن کیساتھ میٹنگ کے لئے بھیجنے کی ” وہ درشتگی سے کہتے ہوئے آفس کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر آیا تھا اشفاق صاحب چونکتے ہوئے اپنی چیئر سے اٹھے تھے
“میں نے اسے وہاں نہیں بھیجا ذاویان وہ خود وہاں گئی تھی” اشفاق صاحب نے دھیمے لہجے میں کہا اسکی آنکھوں میں سلگتی چنگاریاں دیکھ کر
“وہ کبھی بھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولے گی میں نے اسے آر-کے انڈسٹریز کیساتھ میٹنگ دیکھنے کے لئے کہا تھا اور وہ وہاں عسکری کارپوریشن ہمارے بزنس رائیولز کے ساتھ میٹنگ میں اپنے آپ چلی گئی؟” اشفاق صاحب کو کرخت نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ غرایا
“ذاویان میں سچ کہہ رہا ہوں مس انڈرسٹینڈنگ ہو گئی ہو گی میں نے اسے آر-کے انڈسٹریز کی میٹنگ میں ہی بھیجا تھا”
“اگر مجھے پتا چلا اس میں آپکا ہاتھ ہے آئی سوئیر ڈیئر ڈیڈ آپ کو بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی بہت عیش کر لی آپ نے اب سے سب میں ہینڈل کروں گا اپنے طریقے سے یو گیٹ دیٹ؟” وہ کاٹدار نظروں سے اشفاق صاحب کو دیکھتے ہوئے آفس سے باہر نکلا تھا اشفاق صاحب نے سرد آہ بھری تھی سب امپلائز نے اسکے طیش سے سرخ چہرے کو دیکھا تھا وہ سنجیدگی سے چلتا ہوا اپنے آفس روم میں داخل ہوا تھا کوٹ کو ریوالونگ چیئر کے پیچھے ڈالتے ہوئے وہ چیئر پر بیٹھا تھا اور اب تک کی ساری فائلز کا مطالعہ کرنے میں مصروف ہوا جب اسکے فون کی رنگ ٹون بجی اسنے فون کق درشت نظروں سے دیکھا مگر اسکرین پر چمکتا نام”پرنسس” دیکھ کر اسکا سارا غصہ ہوا ہوا تھا
“یس مائی پرنسس”
“بھائی میں گھر بور ہو رہی ہوں کیا شاپنگ جا سکتی ہوں اگر آپکو اعتراض ناں ہو پلیز مجھے گارڈز نہیں چاہیے پلیز پلیز پلیز بھائی” اسکی فرمائش پر ذی نے لب بھینچے تھے
“پلیز ناں بھائی جانے دیں اپنی پرنسس کو”
“فائن لیکن بی کیئرفل کسی بھی”
“ہاں ہاں پتا ہے کسی بھی اجنبی سے بات نہیں کرنی اور انجان جگہ پر نہیں جانا اور اپنا خیال رکھنا ہے اور ٹائم سے گھر آنا ہے اور اگر کوئی بھی پریشانی ہو تو آپکو کال کرنی ہے” سیرت نے اسکی بات کاٹتے ہوئے اسے اسکے ہی کہے گئے الفاظ باور کروائے جس پر وہ مبہم سا مسکراتے ہوئے سر جھٹک گیا تھا
“اوکے بھائی لوو یو میں جا رہی ہوں”
“لوو یو ٹو پرنسس”
کال منقطع کرتے ہوئے وہ دوبارہ فائلز کے مطالعے میں مصروف ہوا تھا
“اسنے ایئر پلگ پر انگلی رکھتے ہوئے کانفرنس ہال میں بیٹھے سبھی لوگوں کو” ایکس کیوز می” کہا اور سنجیدگی سے چلتا ہوا ونڈو کی جانب بڑھ گیا
“ہیلوو کیسے ہو” اسکے لبوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری تھی اس دھماکہ خیز مواد کی آواز سن کر
“میں میٹنگ میں ہوں مس سیرت بعد میں بات کرتے ہیں”
“تمھاری میٹنگ کو آگ لگ جائے میں شاپنگ جا رہی ہوں مجھے کمپنی چاہیے چلو گے” وہ رعب سے ایسے بولی جیسے وہ اسکا ملازم ہو
“میں مصروف ہوں”
“ہاں تو بھاڑ میں جاؤ وقت کیوں ضائع کر رہے ہو صاف صاف کہو نہیں آ سکتے ایک بات یاد رکھنا تمھاری اس انکار کی وجہ سے میرے دل میں تمھارے لئے 0.000000001 پرسینٹ عزت ہے میں اسے بھسم کر دوں گی ” سیرت نے نچلا ہونٹ دباتے ہوئے کہا
“اچھا دس منٹ میں آتا ہوں”
“پانچ منٹ سے زیادہ میں کسی کا ویٹ نہیں کروں گی آفس کے باہر ہی ہوں نکلو باہر ابھی “
“فائن میں آتا ہوں” وہ مبہم سے مسکرا کر کہتا ہوا دس منٹ میں میٹنگ کو نبٹا کر کلائی پر بندھی سمارٹ واچ پر ٹائم دیکھتے ہوئے چیئر سے کوٹ اٹھا کر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا باہر نکلا تھا ایک سائڈ پر اسکی بلیک لینڈ کروزر دیکھ کر وہ فرنٹ سیٹ کا گیٹ کھولتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا تھا
“دس منٹ لگا کر آئے ہو تم ” سیرت نے اسے کاٹ کھانے والی نظروں سے دیکھ کر کہا جو بلو تھری پیس سوٹ میں کافی سٹائلش لگ رہا تھا
“میں نے کہا تھا دس منٹ لگ جائیں گے مس سیرت رضوی” وہ الٹا رعب سے بولا اور اسکا بھرپور جائزہ لیا جو بلیک سوٹ میں ملبوس تھی
“چلو خیر ہے تمھیں راستے میں دیکھتی ہوں چلو تو صحیح” وہ دھیمے لہجے میں بڑبڑائی جسے اسنے برابر سنا تھا اور مسکراہٹ دبائی تھی
“تم نے کبھی گول گپے کھائے ہیں ” سیرت نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے پوچھا جس پر اسنے تاسف سے سر ہلایا تھا
“آپکو تعجب ہو گا مس سیرت میں یہ نام بھی پہلی بار سن رہا ہوں میری موم برٹش تھی ایز یو نو میں برطانیہ سے ہوں ڈائٹ پلان تھا میرا اور اب تک چل رہا ہے بچپن میں صرف پڑھائی تھی اور میں تھا کبھی وقت ہی نہیں ملا ” وہ تاسف سے اسے بتا رہا تھا
“چلو آج کھلاتی ہوں اترو نیچے” وہ سیٹ بیلٹ ہٹاتے ہوئے بولی
“میں یہاں روڈ پر رک کر کوئی تھرڈ کلاس چیز نہیں کھانے والا میرا ڈائیٹ پلان ہے جسے میں خراب نہیں کرنے والا”
“اوکے میں بھی تمھاری کوئی بات نہیں مانوں گی آج کے بعد بھیا ایک پلیٹ بناؤ اور مصالحہ ہلکا کر کے ڈالو” اسکی بات سن کر حدید نے سر جھٹکا تھا اسنے آج تک سٹریٹ فوڈ نہیں کھائی تھی
“اب بھی وقت ہے تم میرے ساتھ یہ کھا لو ہم فرینڈز بن جائیں گے مسٹر حدید رضا عسکری” سیرت نے پلیٹ لیتے ہوئے اسے دوبارہ مخاطب کیا وہ سرد آہ بھرتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا تھا آس پاس سے آتے جاتے لوگوں نے رک کر اس کلاسی شخص کو دیکھا تھا جو اس محترمہ کی وجہ سے روڈ پر ٹھہر کر گول گپے کھانے آیا تھا
“واٹ دا ہیل یہ کیا چیز ہے ” وہ منہ خراب کرتے ہوئے اسکے ہاتھ میں تھامی پلیٹ کو دیکھتا گویا ہوا جس پر سیرت نے قہقہ لگایا تھا
“اسکو ایسے کھاتے ہیں” سیرت نے پورا گول گپہ اٹھا کر منہ میں ڈالا تھا حدید نے سر جھٹکا تھا
“میرا ذائقہ خراب ہو رہا ہے مس سیرت ” وہ سر جھٹکتا دوسری جانب دیکھتا بولا
“سنو اگر آج تم نے یہ کھا لیا پکا تم میرے بیسٹ فرینڈ بن جاؤ گے کھا لو ناں” سیرت نے معصومیت سے کہا حدید نے سرعت سے اس شاطر لڑکی کو دیکھا جو جان بوجھ کر اسے یہاں لائی تھی
“نہیں مجھے ضرورت نہیں” حدید نے صاف انکار کیا جس پر سیرت کا منہ کا زاویہ بگڑا
“اچھا گاڑی میں پانی ہے اٹھا دو پلیز” سیرت نے مسکراتے ہوئے کہا وہ سنجیدگی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا
“بھیا اس میں ناں دو چمچ مرچیں ڈال دو جلدی سے بھر کے ڈالنا” وہ پلیٹ آگے بڑھاتے ہوئے بولی گول گپے والے نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے ویسا ہی کیا تھا وہ پانی کی بوتل اٹھا کر اسکے پاس آیا تھا
“حدید کھا لو ناں یار اتنے دل سے یہاں لائی ہوں تمھیں دیکھو میں بھی تو کھا ہی رہی ہوں” سیرت نے معصوم سی شکل بنائی جس پر وہ مبہم سا مسکرایا
“اچھا بس ایک کھا لو” سیرت نے پلیٹ اسکی طرف بڑھائی اسکی تو آنکھوں میں خجل سی اٹھی تھی سرخ مرچوں سے بھرے گول گپے دیکھ کر ۔۔۔
“پلیزززززززز” سیرت نے منمنا کر کہا وہ سر جھٹکتا ہوا پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے رہ گیا تھا اسکا جی خراب ہو رہا تھا کیونکہ اسنے آج تک ایسا کچھ نہیں کھایا تھا ناں ہی کوشش کی تھی
“میں کھلاؤں اپنے ہاتھ سے” سیرت کی پیشکش پر وہ تو چونک ہی پڑا تھا وہ گول گپہ اٹھا کر زبردستی اسکے منہ میں ڈال چکی تھی یہ اسکی برداشت کی انتہا تھی مرچوں سے اسکی آنکھیں سرخ پڑی تھی
“ہاہاہاہاہاہا ” سیرت کے قہقہے نے اسکے منہ میں لگی آگ کو اور بھڑکایا تھا وہ سرخ ہوتا جلدی سے پانی کی بوتل کو ہونٹوں سے لگا گیا تھا
“ہاہاہاہا ” سیرت کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا کیونکہ اسکی آنکھیں پانی سے بھر چکی تھی اور ساتھ ہی اسکا چہرہ لال پڑا تھا پانی کی پوری بوتل کو پی کر بھی اسکے منہ میں لگی آگ ناں بجھ سکی تھی
“ہائے کتنے کیوٹ لگ رہے ہو تم لال ٹماٹر” سیرت نے اسے برابر چھیڑا وہ اسے کرخت نظروں سے دیکھتا ہوا پانی کی بوتل غصے سے وہاں پھینک کر آگے بڑھ گیا تھا سیرت نے گول گپے والے کو پیسے پکڑائے اور گاڑی لاک کرتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگ گئی تھی
“ارے رکو تو صحیح تم تو ناراض ہی ہو گئے” سیرت نے منمنا کر کہا مگر وہ سر جھٹکتا ہوا آگے بڑھ گیا
“ارے بات تو سنو میری ” سیرت نے اسکے آگے آتے ہوئے کہا وہ پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر اسے سپاٹ نظروں سے دیکھ گیا سیرت کی ایک بار پھر ہنسی چھوٹی تھی اسکا سرخ چہرہ دیکھا کر وہ سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ کر گزر گیا تھا اور ٹیکسی کو روکا تھا سیرت نے سیریئس ہو کر اسے دیکھا تھا جو سچ میں خفا ہو کر وہاں سے جا چکا تھا
“افف اللہ یہ سڑو تو سچ کا ناراض ہو گیا ” وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھتی منہ بنا کر بولی تھی اسے گاڑی میں جاتے دیکھ کر
“ذاویان ڈنر کر لو بیٹا” لیپ ٹاپ کو سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ مہر النساء بیگم کی آواز سن کر باہر نکلا تھا سب ڈائننگ ٹیبل پر اسکا انتظار کر رہے تھے وہ سنجیدگی سے اپنی چیئر پر بیٹھا تھا
“موم ذی اور میں شادی کرنا چاہتے ہیں” چاہت نے مسکراتے ہوئے کہا فورک اٹھاتے ذاویان کا ہاتھ ساکت ہوا تھا اسنے درشت نظروں سے اسے دیکھا تھا سب نے چونک کر ذاویان اور چاہت کو دیکھا تھا خاص طور پر اشفاق صاحب نے کیونکہ وہ اسے بہت سمجھا چکے تھے مگر اسکے بعد بھی اسنے یہ بات کہہ کر انکی توہین ہی تو کی تھی ذاویان نے لب بھینچ کر زوہیب صاحب کو دیکھا جو اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے تھے مہر النساء بیگم نے افسردگی سے انہیں جاتے ہوئے دیکھا تھا وہ سرد آہ بھر کر رہ گئی تھی
“میں آتا ہوں” ذاویان کہہ کر انکے پیچھے چلا گیا تھا
“کیا بکواس ہے یہ چاہت” اشفاق صاحب سر جھکاتے دبے لہجے میں اسکا ہاتھ مروڑتے غرائے
“جسٹ کام ڈاؤن ڈیڈ کہا ناں میں ذی سے ہی شادی کروں گی” چاہت نے کھانا کھاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا
“اشفاق آپ کو اس شادی سے کوئی اعتراض تو نہیں” مہر النساء بیگم نے خاموش بیٹھے اشفاق صاحب کو دیکھتے ہوئے پوچھا اشفاق صاحب نے چاہت کو دیکھا تھا
“مجھے کیا اعتراض ہو گا مہرو میری بیٹی فیصلہ کر چکی ہے” وہ سرد لہجے میں بولے تھے مگر مہر النساء بیگم نے انکے لہجے پر غور نہیں کیا تھا وہ سر ہلا گئی تھی
“آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا مماں ان فیکٹ آپ تو شاید یہی چاہتی تھی” چاہت کی بات نے مہر النساء بیگم کو چونکایا تھا وہ گلہ صاف کرتے ہوئے مسکرا گئی تھی بس کیونکہ ذاویان ان سے مشورہ ہی نہیں کرتا تھا ناں ہی انکی اتنی بات چیت ہوتی تھی وہ تو ماں سے بالکل کنارہ کر چکا تھا ناجانے کیوں
“تم شادی کر رہے ہو ذاویان” زوہیب صاحب نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر کہا ذاویان سنجیدگی سے چلتا ہوا انکے قریب گلاس ونڈو کے قریب رکے تھے
“ماموں آئی نو آپ”
“تم ٹھیک کر رہے ہو یار کر لو شادی کوئی فائدہ نہیں ہے پاسٹ میں رہنے کا اشفاق شاید بدل گیا ہو امید ہے سب صحیح ہو جائے گا ” زوہیب صاحب نے سرد آہ بھر کر کہا تھا
“جی میں یہ شادی کر رہا ہوں انکل ” زوہیب صاحب نے سر ہلایا تھا وہ لمبا سانس ہوا کے سپرد کرتا ہوا گلاس ونڈو سے باہر دیکھنے لگا
“اچھی بات ہے ذی خوش رہو ” زوہیب صاحب نے اسکے کندھے پر تھکی دی وہ سر ہلا کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا سب اسکے ڈائننگ ٹیبل پر منتظر تھے
“شادی کی تیاریاں شروع کریں موم ” وہ سنجیدگی سے بولا تھا چاہت کا چہرہ چمک اٹھا تھا وہ ہنوز بیٹھے اشفاق صاحب کو ایک طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ دیکھتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا اشفاق صاحب نے اپنے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا وہ کرسی پیچھے ہٹا کر اٹھے تھے مہر النساء بیگم نے انہیں سنجیدگی سے دیکھا تھا
“مجھے بھوک نہیں ہے مہرو” وہ سرد لہجے میں کہہ کر اٹھ کر وہاں سے چلے گئے تھے چاہت نے آنکھیں گھمائی تھی
“مبارک ہو بھابھی” سیرت نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر چاہت کھل اٹھی تھی مہر النساء بیگم نے سر جھٹکتے ہوئے نظریں کھانے کی طرف پھیری تھی
بالکنی میں سنجیدہ کھڑا وہ آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھ رہا تھا اسکا چہرہ بالکل سپاٹ تھا ٹھنڈی ہوا سے اسکے گھنے سلکی بال۔اسکی پیشانی کا طواف کر کے یہاں وہاں اڑ رہے تھے دیوار پر ہاتھ رکھے ناجانے وہ کیا سوچ رہا تھا
وہ سرد آہ بھرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا تھا اسکے پیچھے بادل تیزی سے گرجا تھا وہ ساکت ہوا تھا بارش کی پہلی بوند نے زمین کا طواف کیا تھا وہ سنجیدگی سے دوبارہ باہر آیا تھا تیز بارش نے اسے بھگویا تھا وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے بارش کی ٹھنڈی بوندوں کو محسوس کرنے لگا اسکی آنکھوں کے سامنے ماضی ہی ماضی تھا آج اسکا دل بیٹھ رہا تھا کرب اسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا اور وہ کچھ نہیں کر پا رہا تھا
بِچھڑتے وقت اُس نے کہا تھا…!!
نہ سوال کرنا، نہ جواب مِلے گا…!!
تُم بُھول جانا سُکوں مِلے گا…!!
نہ سوال کِیا، نہ جواب مِلا…!!
نہ بُھول سکا، نہ سُکوں مِلا
بارش میں بھیگ کر بھی اسے سکون نہیں ملا تھا اسکے جذباتوں کی آگ کو اس بارش نے مزید سلگایا تھا وہ بغیر ایک پل رکے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا بارش اور اس حسیں موسم کو خیر باد کہہ کر
اُداس شب میں شجر سے گِرتے سُوکھے پتوں کی مانند…!!
تُمہارے بعد کئی دِسمبر ہم پہ ایسے بھی گُزرے ہیں…
” اب کیسی ہو آئیذل ” حورم لیکچر کے بعد اسکے پاس گارڈن میں آ کر بیٹھی تھی وہ جو گھاس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ سوچ رہی تھی سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
“میں ٹھیک ہوں حور تم بتاؤ” وہ سر جھکائے عام سے لہجے میں بولی
“میں تو ٹھیک ہوں لیکن تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی اتنی گم سم رہتی ہو کیا ہو گیا ہے میں سوچ رہی تھی کہ شاید تم نانو کی ڈیتھ کے بعد سے ایسی ہو گئی ہو لیکن یار تم جب سے یونیورسٹی میں آئی ہو مجھے تم گہری سوچوں میں ہی نظر آتی ہو کوئی پریشانی ہے تو شیئر کرو ” حورم نے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر نرمی سے کہا
“تم میری ذندگی کے بارے میں سب کچھ ہی تو جانتی ہو میں سب شیئر کرتی ہوں تم سے ” آئیذل نے ایک جانب دیکھتے ہوئے کہا جہاں سٹوڈینٹس یہاں سے وہاں آ جا رہے تھے اور اپنے کام میں مصروف تھے
“لیکن کچھ ایسا بھی ہے جو تم نے مجھے نہیں بتایا یارر میں دیکھ رہی ہوں کچھ دنوں سے بہت پریشان ہو ” حورم اسے اچھے سے جانتی تھی اور آج اسنے ٹھان لیا تھا کہ وہ اس سے پوچھ کر ہی رہے گی
“میں خود بہت پریشان ہوں حور مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیا کروں ” آئیذل نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا
“مجھے لگتا ہے میں غلط سوچ رہی ہوں ” آئیذل نے مختصر کہا مگر اسکے جواب نے حورم کو چونکایا
“کیا مطلب غلط سوچ رہی ہو کس بارے میں بات کر رہی ہو ” حورم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
“پروفیسر زاویان کی بات کر رہی ہوں یہ دیکھو کل کیا کیا میں نے “
وہ اپنے بیگ سے اسکے سکیچ نکالتے ہوئے بولی حورم نے چونکتے ہوئے اس سے پیپر لیکر اسکے سکیچ دیکھے تھے وہ بیچاری مرتی کیا ناں کرتی بس چونک کر اسے اور سکیچ کو دیکھتی رہ گئی
“آئیذو اگر یونیورسٹی کو اس بارے میں پتا چلا پروفیسر اور تمھیں دونوں کو سسپینڈ کر دیں گے پاگل کیا کر رہی ہو تم” حورم نے جلدی سے سکیچ فولڈ کرتے ہوئے اسکے بیگ میں ڈالے تھے آئیذل نے سرد آہ بھری تھی
“میں کیا کروں وہ بہت اچھے ہیں ہر بار مجھے معاف کر دیتے ہیں میری ہیلپ کرتے ہیں اور میں کیسی چیزیں سوچ رہی ہوں ” آئیذل نے شرمندگی سے سر جھٹکا تھا
“لیکن ہم جیسی مڈل کلاس لڑکیوں کی ذندگی میں محبت کا ناں تو وقت ہوتا ہے اور ناں ہی اجازت ہمیں زندگی میں یہ سب آسائشیں نہیں ملتی جذبات دل میں آنے ہی نہیں چاہیے پروفیسر صرف اچھے ہیں اس لئے شاید میں انہیں لائک کرنے لگی ہوں تم شاید ذیادہ ہی سوچ رہی ہو” آئیذل نے لب بھینچ کر بکس سمیٹی تھی
“تم ان سے محبت کرنے لگی ہو اور جتنی جلدی یہ بات مان لو اچھا ہو گا خود کو بےوقوف مت بناؤ”
حورم کے الفاظ پر وہ بےجان ہوئی تھی اسکا دل اتنی شدت سے دھڑکا تھا جیسے وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتا ہو” کہ ہاں ایسا ہی ہے”
“مم۔۔مجھے نہیں پتا اگلے لیکچر کا ٹائم ہونے والا ہے میں جا رہی ہوں” وہ ہچکچاتے ہوئے جلدی سے بیگ اٹھاتی کھڑی ہوئی حورم نے اسے تعجب سے دیکھا جو تیزی سے وہاں سے چلی گئی تھی
تیز قدموں کیساتھ وہ لیکچر ہال کی طرف بڑھ رہی تھی دل و دماغ کہیں اٹکے ہوئے تھے
“تم ان سے محبت کرنے لگی ہو ” حورم کے کہے گئے لفظ اب تک اسکے ذہن میں گردش کر رہا تھا
“آہہہہ” سیڑھیاں چڑھتے اسکا پاؤں سیڑھی سے اٹکا تھا وہ اچانک اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے کا منظر گھوم گیا تھا وہ خوف سے آنکھیں میچ گئی تھی