Jurm e Ishq by Malisha Rana

The novel Jurm e Ishq by Malisha Rana is a romantic Urdu novels pdf, written by a famous Pakistani novelist Malisha Rana. You can download or read this novel online complete from here in PDF format.

Novel: Jurm e Ishq

Writer: Malisha Rana

Status: Completed

Intresting Part Of Jurm e Ishq by Malisha Rana

” بہرے میں کیا ایک بار میں سنائی نہیں دیتا، اللہ نے اب پکا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھے آپ کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔۔

فرمان جو کچھ دیر بعد خوشی سے چہکتا ھوا ابیہا سے اپنی بات کی تصدیق کر رھا تھا ابیہا کے دوبارہ کہنے پر جوش سے ابیہا کے قریب آتے اسے اپنی گود میں اٹھا کر گول گول گھومنے لگا۔۔۔۔

” بیہو اتنی بڑی خوشخبری یا اللہ کہیں میں خوشی سے ہی مر ہی نا جاؤں۔۔۔”

چھوڑیں چھوڑیں مجھے میرا سر چکرا رھا ھے ۔۔۔”

ابیہا کے چیچنے پر فرمان واپس ہوش میں آیا اور اس کی حالت شرمندہ ھوتے اسے نیچے اتار دیا وہیں زمین پر پاؤں رکھتے ہی ابیہا نے زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور ساتھ سے اسے دھکا دیا۔۔۔ ” سوری بیو غلطی ہو گئی اب مارو تو مت . *** فرمان کا انداز معصومیت سے ” بھر پور تھا۔۔۔

” یہ تھپڑ آپ کی اس گھٹیا حرکت کے لیے جو کل آپ نے میرے ساتھ کی تھی، زندگی میں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی آپ کو ۔۔۔!

نظروں میں ڈھیروں نفرت سموئے ابیا فرمان سے مخاطب ہوئی جبکہ فرمان تیزی سے ابیہا کے قریب جا کر اس کے ھاتھ تھامے اسے امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔

***

” سوری بیوسوری یار بہت شرمندہ ھوں کل کے لیے ، پلیز معاف کر دو تم ہی بتاؤ کہ کیا کروں میں جو تم مجھے معاف کر دو, کچھ بھی کروں گا میں۔۔

” ٹھیک ھے تو یہ سب برے کام چھوڑ دیں آپ ہمیشہ کے لیے, بولیں کر

پائیں گے۔۔۔؟؟؟

چہرے پر پتھریلے تاثرات سجائے ابیہا نے فرمان سے سوال کیا جس پر فرمان

مسکرانے لگا۔۔۔

” بس اتنی سی بات بیہو یار تمہارے کے بغیر ہی میں نے آہستہ آہستہ سب کچھ چھوڑ دیا ھے اور میں اپنے فیصلے تا قیامت قائم رھوں گا بیو, سوری بٹ اب ہم تھوڑی سی غریبوں والی زندگی جیں گے مطلب کہ میں روز مزدوری کر کے آیا کروں گا، تم میرے لیے کھانا بنایا کرنا اور پھر ہم مل کر روکھا سوکھا کھایا کریں گے۔

فرمان جس نے ابیہا کو ھنسانے کے لیے ایسی بات کی تھی وہ فوراً اپنے مقصد میں کامیاب ھو گیا کیونکہ ابیہا ھنسنا شروع ھو گئی تھی۔۔۔

” جان بوجھ کر یہ ایسی حالت کر کے آئے تھے نا آپ کہ مجھے آپ پر ترس آ

جائے۔۔۔”

ھاں تھوڑی تھوڑی اور دل میں بھی لاکھوں دعائیں کی تھیں یار کیا بتاؤں تمہیں ساری رات نہیں سویا ہوں میں

بس روئے جاؤں اور صرف دعا کرے جاؤں تو بہ, یا اللہ آپ کا کیسے شکر ادا کروں میں مجھے میری محبت دوبارہ مل گئی ، جلدی سے تیار ہو جاؤ بیہو تاکہ ڈاکٹر کے پاس چلیں اور ھاں بیہو ایک بار پھر کہہ رہا ہوں پلیز بیہو میرے سارے گناہ اور غلطیوں کے لیے مجھے معاف کر دو

دوبارہ کبھی زندگی میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا، یہ میرا وعدہ ھے بھلا تم مجھے جتنا بھی مار لو افف بھی نہیں کروں گا میں۔۔۔۔”

معصوم سا چہرہ بنائے فرمان ابیہا سے بولا تو وہ نا چاھیتے ھوئے بھی مسکرانے اور اسے مسکراتا دیکھ فرمان بھی پرسکون ھوتا اس کا ھاتھ تھامے گھر سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھ گیا تاکہ ھو سپیٹل جاسکے۔

یوں ہی خود کو تھپڑ مارتے شاہ دل آخر میں رونے لگا۔۔۔

” کتنا بد نصیب شخص ہوں میں، جس نے اپنی محبت کو گنوا دیا، کتنا اکیلا ہو گیا ہوں میں کوئی نہیں ہے میرا کوئی نہیں رھنا چاہتا میرے جیسے شخص کے ساتھ میں نے نہیں جینا میں اس قابل ہی نہیں ھوں ان گناھوں اور نفرتوں کا بوجھ لیے میں زندگی نہیں گزار سکتا میں میں خود کو ختم کر لوں گا ویسے بھی کونسا میرے جینے کا کوئی ۔ ر باقی بچا ہے۔ مقصد

خود سے ہی فیصلہ کرتے شاہ دل نے اپنی بندوق نکالی اور اسے اپنے پیشانی پر رکھ لیا جب اچانک اس کے دماغ میں ایک خیال آیا اور اس نے بندوق نیچے کر لی ۔۔۔۔

” مرنا تو ہے ہی مجھے لیکن پہلے ایک کام تو کر لوں شاید اس طرح کچھ سکون ہی مل جائے مجھے اور اللہ بھی راضی ھو جائے ۔۔۔”

شاہ دل نے تیزی سے اپنا موبائل نکالا اور فرمان کا نمبر ڈھونڈتےے اسے کال کر دی دوسری جانب فرمان گاڑی چلا رہا تھا اسی وجہ سے کال پک کیے اسے اسپیکر پر لگا دیا۔۔۔۔

” هيلو كون بات کر رھا ھے —-؟؟؟

” فرمان پلیز میری ابیہا سے بات کروا دو۔۔۔۔”

***

فرمان کے سوال کو نظر انداز کیسے شاہ دل نے جلدی سے کہا وہیں فرمان کی

پیشانی پر ان گنت بل پڑ گئے۔

” تجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کیوں پیچھے پڑا ھے ہمارے پیار سے کہہ رھا ھوں دوبارہ کال مت کرنا ورنہ اچھا نہیں ھو گا۔۔۔۔”

فرمان فرمان پلیز کال مت کائنا میں معافی مانگنا چاہتا ھوں تم سے بھی اور ابیہا سے بھی۔

اپنے غصے کو دباتے ھوئے فرمان نے کہہ کر کال کاٹنی چاہی جب اسے شاہ دل کی آواز سنائی دی۔۔۔۔

” جو کہنا ھے جلدی کہوں ابیہا سن رہی ھے

ابیہا کو دیکھتے فرمان نے شاہ دل کو اپنی بات کرنے کی اجازت دی۔۔۔

ابیہا پلیز مجھے معاف کر دو میں نے بہت برا کیا تمہارے ساتھ ، فرمان بے بگناہ ھے اس نے کوئی ویسا جرم نہیں کیا وہ سب میں نے جھوٹ بولا تھا تم سے ۔۔۔”

***

” کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔؟؟؟

شاہ دل کی بات کاٹتے ابیہا غصے سے پھٹ پڑی۔۔۔

سوری ابیہا پتہ نہیں شاید میں جیلسی میں پاگل ہو گیا تھا جو تمہارا بسا بسایا

** کس قدر گھٹیا انسان جو پہلے تو میرے ساتھ اتنا برا کیا اب مجھے دوبارہ خوشیاں ملنے والی تمھیں تو وہ بھی برداشت نہیں ہوئیں تم سے، تمہاری وجہ سے آج زندگی برباد ہونے والی تھی ہماری, تم جیسے شخص کو تو جینے کا بھی حق نہیں ۔۔۔۔ “

غصے کی زیادتی سے ایسا کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کچھ ہوئے جا رہی ھے وہیں شاہ دل ابیہا کی اس بات پر مزید دکھی ھوتا اپنا مرنے کا ارداہ پختہ کرنے لگا۔۔۔

” صحیح کہا تم نے ابیہا اب ایسے ہی

شدید بر کرب سے کہتے شاہ دل نے فوراً کال کاٹ دی جبکہ فرمان کو کچھ غلط

ھونے کا اندیشہ ھونے لگا۔۔

” بیہو اب کیا کرے گا یہ —- ؟؟؟

” بھاڑ میں جائے ہماری بلا سے فرمان میں معافی کے تو لائق نہیں ھوں لیکن پھر بھی معاف کر دیں مجھے ۔۔۔”

شاہ دل کے موضوع کو نظر انداز کرتے ابیہا نے فرمان سے معذرت کی ۔۔۔

بیہو یہ معافی والا چکر صرف میرا ھے ہم دونوں میں سے صرف مجھے الاؤڈ ہے معافی مانگنا، اس لیے تم صرف مجھ پر روب جمایا کرو, ویسے ہمارے بچے نے آج اتنا بڑا گناہ کرنے سے ہمیں بچا لیا شکر ھے اللہ کا۔ ۔ ۔ “

پرسکون سی سانس لینے فرمان مسکرا کر ایسا کو دیکھنے لگا جبکہ ایسا بھی اب مطمئن ھو چکی تھی کچھ ہی دیر میں دونوں ہوسپٹل پہنچ گئے۔۔

کال کاٹتے ہی شاہ دل نے روتے ھوئے پھر سے اپنی پیشانی پر بندوق رکھ لی اور ٹریگر کو دباتے ھوئے خود کو گولی مارنے لگا جب اچانک اسے سارہ کا خیال آیا۔۔۔۔

میں ایسے کیسے مر سکتا ھوں جبکہ ابھی تک میں نے سارہ سے تو معافی مانگی ہی نہیں لیکن معافی مانگوں بھی تو کیسے کوئی بات نہیں بس خود کو ختم کر لیتا ھوں سارہ شاید بعد میں مجھے معاف کر دے۔۔۔۔

ایک لیٹر لکھ دیتا ہوں سارہ کو جس پر اپنے تمام دلی جذبات عیاں کر دوں ” گا۔

ایک فیصلہ کرتے ھوئے شاہ دل زمین سے اٹھا اور نوٹ پیڈ لیے اس پر

لکھنے لگا۔۔۔

سوری سارہ ہر بات کے لیے جانتا ھوں کہ میں نے تمہارے ساتھ بہت برا ” کیا تمہیں خوشی تو کیا دینی تھی بس دکھ ہی دکھ دیے ھیں میں نے پلیز اگر ھو سکے تو میرے سبھی گناھوں اور غلطیوں کو معاف کر دینا اور شکریہ مجھے احساس دلانے کے لیے کہ کتنا برا ھوں میں تمہارا شاہ دل اور آخر میں آئی لو یو سچ میں آئی لو یو ، اور ھاں وہ رات مجھے یاد تھی بس جان بوجھ کر نہیں

مان رہا تھا کیونکہ آنا جو آڑے آ جاتی تھی ھو سکے تو مجھے معاف کر دینا ،گڈ “بہائے ۔۔۔

لیٹر لکھتے ھوئے مسلسل شاہ دل کی آنکھیں نہیں رہی تھیں لیٹر مکمل ہوتے ہی شاہ دل نے اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور خود دوبارہ بندوق اٹھا کر اپنی

پیشانی پر رکھ لی۔۔۔

شاہ دل نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور خود آہستہ آہستہ ٹریگر پر انگلی دبانے لگ گیا کہ اچانک اسے سارہ کی شیخ نے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا۔۔۔

“شاه

یہ کیا کر رھے ھیں آپ ایک اور گناہ، آپ کو کیا زیادہ شوق ھے جہنم میں “

جلنے کا —؟؟؟

تیزی سے شاہ دل کی طرف بڑھتے سارہ غصے سے بولی جبکہ سارہ کو خود کی فکر کرتا دیکھ شاہ دل مسکرانے لگا۔

سارہ وہ میں نے سوچا کہ اتنے بڑے گناہ جو کیے ھیں ‘ اس لیے اب خود کشی ہی کر لوں ویسے سارہ تم تم کیوں آئی ہو تم جو جا چکی ” تھی نا۔

جی جا چکی تھی مگر اب اپنا موبائل لینے کے لیے واپس آئی ھوں اور کیا ” دیکھا میں نے کہ میرے شوہر صاحب کیا عظیم کام سر انجام دینے والے تھے ، شرم نہیں آتی آپ کو پہلے ہی پتہ نہیں آپ کے بغیر کیسے زندگی گزارنی تھی میں نے اور اب اگر آپ کو کچھ ھو جاتا تو نا جانے میرا کیا ہونا تھا شاید مر ہی جاتی میں آئی ہیٹ یو آئی ہیٹ یو شاہ —

سارہ روتے ھوئے شاہ دل کے کاندھے پر تھپڑ مارنے لگی جبکہ شاہ دل اسے کھینچ کر اپنے گلے لگا چکا تھا۔۔۔

سوری سارہ تم سے دو منٹ کی دوری سہہ کر ہی معلوم ہوا کہ کتنی محبت ” ھے مجھے بھی تم سے آئی لو یو لویو لو یو سوچ ، پلیز سارہ مجھے معاف کر دو اور ” مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ورنہ میں سچ میں خود کو ختم کر لوں گا۔۔۔۔

بس آپ جیسے بزدل انسان صرف یہی کر سکتے ھیں ٹھیک ھے میں تو ” “معاف کر دوں گی لیکن ابیہا اس کا کیا۔۔۔۔

شاہ دل سے دور ھو کر اسے دیکھتے سارہ نے سوال کیا۔۔۔

نہیں نہیں میں نے اس سے بھی معافی مانگی ھے پتہ نہیں اب اس ” ” نے معاف کیا ھے یا نہیں۔۔ شاہ دل نے کچھ دیر پہلے والی بات سارہ کے گوش گزار کی ۔۔

تو آپ اس سے مل لو تاکہ آپ کو سکون مل سکے ۔۔۔

سارہ نے جھٹ سے حل پیش کیا۔۔۔

نہیں سارہ ، تمہیں کیا لگتا ھے وہ مجھ سے ملے گی کبھی نہیں۔۔۔۔

نہیں شاہ نا امید مت ہوں شاید وہ مل لے آپ ۔ *** او کے سوچوں گا لیکن تم نے تو مجھے معاف کر دیا ہے نا۔۔۔۔؟؟؟

” ہاں کر دیا ہے میں نے ۔۔۔۔

سارہ کا جواب ملتے ہی شاہ دل نے زور سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔

آج آج سارہ میں تمہیں وہ حق وہ خوشی دوں گا جس کی تم حق دار ھو آج ” تم میرے لیے دولہن کی طرح تیار ھو گی اور آج ہی سہی معنوں میں شادی کی ” پہلی رات ہوگی ہماری۔۔۔

Jurm e Ishq Novel By Malisha Rana Read Online

Jurm e Ishq Novel By Malisha Rana Download PDF

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top