Bharosa Complete Novel By Zaisha Khan

The novel Bharosa By Zaisha Khan  is a romantic Urdu novels pdf, written by a famous Pakistani novelist Zaisha Khan. You can download or read this novel online complete from here in PDF format.

Novel: Bharosa

Writer: Zaisha Khan

Status: Completed

Intresting Part Of Bharosa

شیزہ تمہیں کیا لگتا ہے ۔۔۔۔عروج اپنے چہرے پر بڑی سے مسکراہٹ سجائے بولی ۔۔

مجھے نہیں معلوم ۔۔مجھے نہیں لگتا میں یہ کر سکتی ہوں ۔۔شیزہ کی بات سن کے عروج کی مسکراہٹ غائب ہو گئ ۔۔

شیزہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اپنا کیرئیر دوبارہ شروع کرنا چاہیے ۔۔بہت سے ایسے لوگ ہے جو اب بھی تمہارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں

ہماری کمپنی میں بہت سی ماڈل ہے ہم ان کے ساتھ کام کر سکتے ہیں

“نہیں.. ہم نہیں کر سکتے!

تم کیوں نہیں سمجھتی یہ اپنے کیرئیر کی طرف واپسی کا بہترین وقت ہے

تین سال ہو گئے، تین سال! تمہارے آخری فوٹو شوٹ کو تمہیں پھر سے اپنی زندگی شروع کرنا ہو گی ۔۔اور میں پہلی بھی تمہاری مینجر تھی اور اب بھی رہو گی عروج امید بھری نظروں سے شیزہ کو گھورتے ہوئے بولی ۔۔

“نہیں شکریہ” شیزہ جوس کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے بولی ۔۔

شیزہ تم ایسا کیسے کر سکتی ہوں عروج مایوسی سے اس پر چلائ۔۔

ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی عروج شیزہ کے ہاتھ سے جوس کا گلاس چھینتے ہوئے ایک گھونٹ میں سارا پی گئ ۔۔

اسے دیکھ شیزہ کا قہقہ بلند ہوا ۔۔

اچھا ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے ساری تفصیلات مجھے ای میل کر دینا میں دیکھ لو گی شیزہ صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی کھڑے ہوتے ہی اس کی پسلیوں سے ہلکی سی درد اٹھی ۔۔

اس کا درد مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔

شیزہ تم ٹھیک ہو عروج اسے تکیلف میں دیکھ کھڑی ہوئ ۔۔

ہاں میں ٹھیک ہوں ۔۔بس ہلکا سا درد ہے ۔۔

ابھی تو مجھے اپنے شوہر سے بھی نمٹنا ہے شیزہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔

شیزہ۔۔۔تم کیسے اس کے ساتھ رہو گی مجھے تمہاری بہت فکر ہو رہی ہے ۔۔

فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا درد اس نے مجھے دیا ہے اس سے دوگنا درد میں اسے دو گی ۔۔

یہ ہوئ نہ میری بیسٹی والی بات عروج خوشی سے اس کے گلے لگ گی ۔۔

تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں شیزہ عروج کو خود کو گھورتا ہوا دیکھ بولی ۔۔

تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ۔۔

جس طرح تم میرے کہے بنا میری سب باتیں سمجھ لیتی ہو اس طرح مجھے بھی پتہ لگ جاتا ہے ۔۔

دونوں ایک ساتھ مسکرائ

تمہیں یقین ہے کہ تم ولید کے دھوکے میں دوبارہ نہیں آو گئ اگر دانیال نے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے اس سارے سازش کے پیچھے بلال تھا اور ولید پہلے سے ہی ساری سچائ جانتا ہے تو مجھے پورا یقین ہے وہ تمہارے نزدیک آنے کی کوشش ضرور کرے گا ۔۔۔

تم فکر مت اب ایسا کچھ نہیں ہو سکتا میرے دل میں اس کے لیے اب بس نفرت ہے ۔۔

جب عروج نے اسے بتایا کہ اس سب کے پیچھے بلال کا ہاتھ تھا تو اسے ذرہ بھی خیرانی نہیں ہوئ اس انسان سے کسی بھی قسم کی امید کی جا سکتی تھی ۔۔

عروج کے مطابق دانیال کا کہنا ہے کہ بلال اس وقت ہسپتال میں داخل ہے ۔۔

شیزہ کو اس بات پر فخر محسوس ہوا کہ اس کا شوہر اس کے علاوہ بھی کسی اور پر ہاتھ اٹھانا جانتا ہے

چلو اب میں چلتی ہوں میرا شوہر میرا انتظار کر رہا ہو گا شیزہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے بولی

تم مجھے سب میل ای میل کر دینا میں دیکھ لو گی اب میں چلتی ہوں شیزہ صوفے سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتے بولی ۔۔

میں تمہیں باہر تھا چھوڑ دیتی ہوں عروج اس کا سامان پکڑتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی

بیگ کو گاڑی میں رکھنے کے بعد شیزہ عروج کی جانب بڑھی اسے گلے لگا گئ ۔

اپنا خیال رکھنا ۔۔میں تمہیں بہت یاد کرو گی عروج زور سے اسے کے گلے لگی بولی ۔۔

میرا گھر یہاں سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جب دل کرے وہاں آ جانا شیزہ عروج کو خود سے جدا کرتے ہوئے بولی ۔۔

میں جانتی ہوں ۔۔لیکن تمہارے ساتھ اتنے دن گزارنے کے بعد مجھے تمہاری عادت ہو گئ ہے ۔ عروج اپنے آنسو صاف کئے مسکراتے ہوئے بولی

ہمیشہ خوش رہو ۔۔اور مجھے یقین ہے مجھے سے زیادہ تم دانیال کے ساتھ خوش رہو گی شیزہ اسے چیڑتے ہوئے ہنسی۔۔

عروج نے آہستہ نے اسے کہنی ماری ۔۔۔

اچھا اب میں چلتی ہوں خدا حافظ اپنا بہت خیال رکھنا شیزہ گاڑی میں بیٹھی وہاں سے چلی گئ

****

شیزہ اپنے گھر پہنچی گاڑی گیراج میں پارک کئے گاڑی سے باہر آئ ۔۔

اپنے گھر کو دیکھ کر اس نے آہ بھری ۔۔کبھی یہ محبتوں سے بھرا ہوا گھر ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ صرف ایک مکان ہے جہاں محبت نام کی کوئ چیز نہیں ہو گئ

شیزہ نے اپنا سارا سامان گاڑی سے اتارا ۔۔

میڈم میں آپکو دیکھ کر بہت خوش ہوں آپ صحیح سلامت گھر واپس آ گئ ۔۔

غلام شیزہ کا سامان اٹھائے بولا ۔۔

آپ کیسے ہیں غلام بھائ ۔

میں بلکل ٹھیک ہوں غلام سارا سامان گھر کے اندر رکھتے ہوئے بولا۔۔

بہت شکریہ اپکا اب آپ اپنی جگہ واپس جا سکتے ہیں شیزہ اپنا سامان خود پکڑتے ہوئے بولی ۔۔

واچ مین دروازہ بند کئے وہاں سے چلا گیا

شیزہ نے ایک گہرا سانس بھرا اور لیونگ روم کی طرف چل پڑی جہاں سب لائٹ آن تھی اور ٹی وی بھی آن تھا

لیکن ولید کہی نظر نہیں آ رہا تھا

شیزہ سڑھیوں کی جانب بڑھی ۔

سڑھیوں کے اوپر ولید کو کھڑا دیکھ اچانک اس کی چیخ بلند ہوئ ۔وہ سب سے اوپر کھڑا اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا ۔

شیزہ خود کو ریلکس کئے اپنا بیگ گھسیٹتے ہوئے سڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔

اس نے ایک بار بھی ولید کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی وہ تو اللہ کا شکر تھا سڑھیاں اتنی چوڑی تھی کہ ایک ہی وقت میں تقریبا پانچ لوگ اوپر نیچے ہو سکتے تھے ۔۔

شیزہ اس کی طرف دیکھے بغیر اپنے اور ولید کے ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھ گئ ۔۔

یہ کمرہ بھی اتنا ہی بڑا تھا جتنا کہ وہ کمرہ تھا

کمرے کے درمیان میں بیڈ سائیڈ پہ ایک صوفہ اور دوسری سائیڈ پہ ڈریسنگ ٹیبل تھا

شیزہ آگے بڑھتی ہوئ کھڑکی سے پردے پیچھے کئے کھڑکی کھولے نیچے بنے ہوئے پول کو دیکھنے لگی ۔

کمرے میں تین دروازے تھے، ایک لکڑی کے دروازے کے ساتھ شیشے کے دو دروازے تھے۔

لکڑی کا دروازہ الماری کی طرف جاتا تھا، شیشے کے دروازے باتھ روم اور بالکونی کی طرف جاتے تھے جس سے باغ اور مین گیٹ کے دروازے کو آسانی دیکھا جا سکتا تھا ۔۔

شیزہ اپنا بیگ سائیڈ پر رکھے اپنے دوسرے روم کی جانب بڑھی جہاں یہ اور ولید دونوں اکھٹے رہتے تھے

یہ کمرہ بہت سی بری یادوں کے ساتھ ساتھ اچھی اچھی یادوں سے بھی بھرا پڑا تھا ، اس نظریں خود بخود ان کی شادی کی تصویروں کی جانب مڑی ۔۔

کئ سکینڈ تک انہیں دیکھنے کے بعد شیزہ الماری کی جانب بڑھی اپنے سارے کپڑے پیک کئے دوسرے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔

سارے کپڑے وہاں رکھے واپس پھر کمرے آئ اور اپنا بچا کچا سامان بھی پیک کئے جانے ہی والی تھی کہ اسے قدموں چاپ سنائ دی شیزہ نے چہرہ اوپر کر کے دیکھا تو ولید دروازے پہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا

شیزہ تم یہ سب کیا کر رہی ہو ولید چلتا ہوا اس کے نزدیک آیا ۔۔

میں نے تمہارے کمرے سے اپنا سارا سامان نکال لیا ہے شیزہ اپنا سارا سامان پیک کرتے ہوئے بولی

“بیبی آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے..”

ولید نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا شیزہ نے غصے سے اس کے ہاتھ کی جانب دیکھا اور پھر ولید کی طرف ولید جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا گیا ۔۔

شیزہ اپنا سارا سامان لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھی

شیزہ پلیز۔۔میں جانتا ہوں کہ میں ایک گھٹیا انسان ہوں اور تم مجھ سے نفرت کرتی ہوں میں شاید تمہاری معافی کا مستحق بھی نہیں ہوں لیکن پلیز۔۔کمرے سے مت جاوں ۔تم اس کمرے میں رہ سکتی ہوں میں اس کمرے سے چلا جاوں گا پلیز تم مت جاوں اس کمرے سے ۔۔

“میں اس کمرے میں نہیں رہوں گی اور یہ حتمی ہے، اگر تم اگلے تین ماہ تک اس گھر میں سکون سے رہنا چاہتے ہیں تو پلیز مجھ سے دور رہو!…

عائشہ نے کہاں ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتی ہوں اور میں بلکل ایسا ہی کروں گی

تم ہمیشہ شکایت کرتے تھے کہ میرے کپڑوں نے اتنی جگہ لی ہوئ ہے تو آج تمہاری شکایت دور ہو گئ ہے میں نے اپنے سارے کپڑے نکال لیے ہیں اور اب بھی تمہیں مسلہ ہے شیزہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولی ۔۔

“..میرا یہ مطلب نہیں تھا،

مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے ۔۔

باہر نکلو ۔شیزہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ۔

شیزہ۔۔۔میری ۔۔۔

میں نے کہا باہر نکلو۔۔

شیزہ کے چہرے پر درد بھرے تاثرات تھے

شیزہ۔۔پلیز۔۔

باہر نکل جاوں شیزہ آنکھوں میں آنسو لیے دروازہ کھولے اسے باہر جانے کا اشارہ کرنے لگی ۔۔

ولید مجھے پریشان مت کرو

ولید آہستہ آہستہ قدم اٹھائے اس کی جانب بڑھا

ولید نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ شیزہ اس کی بات کاٹ گئ

یہاں سے چلے جاوں ۔۔

ولید اس پر ایک نظر ڈالے کمرے سے باہر نکل گیا ولید نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا اس کی انکھوں سے آنسو باہر آنے کو بے چین ہو رہے تھے

میں تمہیں دوبارہ اس کمرے کے قریب نہیں دیکھنا چاہتی ۔۔شیزہ اسے کے منہ پر دروازہ بند کرتے ہوئے بولی ۔۔

دروازہ بند کئے شیزہ گہرا سانس لیے اپنے بالوں کو پیچھے کہ جانب دھکیل گئ ۔۔

اسے بہت برا لگ رہا تھا چاہے جو بھی ہو ابھی بھی وہ اس کا شوہر تھا ۔۔

نہیں شیزہ تجھے مضبوط بننے ہو گا اس بار تجھے کسی کے دھوکے میں نہیں آنا شیزہ خود سے بڑبڑائ

****

یہ اب تک کی بدترین سزا ہے لیکن میں اسی کا مستحق ہوں ۔۔کل جب اس نے مجھے کمرے سے نکالا اور میرے چہرے پر دروازہ بند کیا تو میرا دل پھٹنے کو تھا آنکھوں سے آنسو بہنے کو تیار تھے

ولید موبائل کان سے لگائے دانیال کو بتاتے ہوئے بولا

اور تمہیں پتہ ہے کل رات سے میں اس کا نیچے لیونگ میں انتظار کر رہا ہوں اس امید میں کہ وہ شاید کچھ کھانے کے لیے نیچے آئ گی لیکن صبح کا ایک بج گیا ہے وہ ابھی تک نیچے نہیں آئ ۔۔۔

یار تو فکر مت کر اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ولید دانیال سے مزید باتیں کئے فون رکھ گیا ۔۔

اس کا انتظار کئے ولید آفس کے لیے تیار ہوئے ناشتہ کئے گھر سے باہر نکلا ولید اپنی گاڑی کی طرف ابھی بڑھا آفس کے لیے نکلا ۔۔

ولید ابھی آفس داخل ہوا ہی تھا کہ اس کے ساتھ شیزہ بھی بھی اندر داخل ہوئ ولید نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شیزہ کو دیکھ اپنی جگہ جم گیا اس نے بلیو جینز کے اوپر وائٹ شرٹ پہنی ہوئ تھی اور اس کے اوپر لانگ ٹاپ بالوں کو اونچی پونی میں باندھے آنکھوں پر کالے بڑے چشمے لگائے بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔

ولید تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا

ولید کو آج پھر اس شیزہ سے پیار ہوا تھا جس نے خود کو فخر ،وقار ،اعتماد اور خود اعتمادی سے اوپر اٹھایا تھا

شیزہ اسے اگنور کئے آگئے بڑھ گئ ۔۔

ولید اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔

تم سب کیا دیکھ رہے ہوں اپنے اپنے کام دھیان دو ولید تمام سٹاف کو اپنی طرف متوجہ دیکھ بولا۔۔

شیزہ تم یہاں کیا کر رہی ہو ولید اپنے کیبن میں داخل ہوئے بولا۔۔

تم نے میری کمپنیوں میں جو اپنے آدمی رکھے ہوئے انہیں وہاں سے ہٹا دو ۔آج سے میں خود اپنی کمپنیوں کو سنبھالوں گی ۔۔

اور اپنے آدمیوں سے بولنا مجھے پیچھلے تین سالوں کی ساری ڈیٹیل چاہیے میں بھی تو دیکھوں ان تین سالوں میں میری کمپنیوں نے کیا ترقی کی ہے ۔

تم جو چاہتی ہوں وہ ہو جائے گا کچھ اور بھی ہے تو بتا دو ولید اس کے سامنے کھڑا ہوا بولا ۔۔

ٹھیک ہے ان کے پاس جمعہ تک کا وقت ہے تب تک مجھے تمام ڈیٹیل چاہیے شیزہ اس کے کان میں سرگوشی کئے بولی

ولید نے اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا ۔۔

اب میں چلتی ہوں مجھے امید ہے تم میری باتوں کو اچھے سے سمجھ گئے ہو گئے شیزہ اس سے دور ہوئے بولی ۔۔ایک دم سے ولید کا سحر ٹوٹا ۔۔

شیزہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے آنکھوں پر چشمہ لگائے کیبن سے باہر نکل گئ

ایک مہینے بعد ۔۔۔

میں تنگ آ چکی ہوں ولید میری زندگی کو مزید تنگ کر رہا ہے وہ مجھ سے معافی مانگنے کا ،بات کرنے کا ، میرے قریب آنے کا ایک بھی موقع نہیں چھوڑتا ۔۔

اگر اسے ایسا لگتا ہے کہ برسوں تک مجھے تکلیف دینے کے بعد میں اسے معاف کر دو تو بھول ہے اس کی شیزہ غصے سے لال ہوئ بولی ۔۔۔

شیزہ یار تم کیوں ٹینشن لے رہی ہو تم بس ہمت بنائے رکھو ایک مہینہ گزر گیا ہے صرف دو مہینے باقی رہ گئے ہیں وہ بھی گزر جائے گئے ۔۔

تمہیں بس اپنی ہمت نہیں توڑنی عروج اسے کے گلے لگے اسے حوصلہ دینے لگی ۔۔۔

تمہیں پتہ ہے ہماری ایجنسی بہت اچھا ورک کر رہی ہے ہمارا نئے ماڈلز رکھنے کا آئیڈیا کام کر گیا لوگ ہماری ایجنسی کے ساتھ کام کرنے کے لیے بے تاب ہو رہے ہیں

یہ کیا کہہ رہی ہو تم ۔۔شیزہ نے خیرانگی سے اس کی جانب دیکھا ۔۔

میں بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔۔۔کمرشل کے لیے کمپنی کا اونر خود تم سے ملنے کے لیے آیا ہے وہ دیکھوں عروج اس کا روح دروازے کی جانب کئے بولی ۔۔۔

سامنے سے ایک شخص کیبن میں داخل ہوا وہ شخص واقعی میں بہت ہینڈسم تھا اس کی رنگت گندمی تھی قد ولید جیتنا لمبا تھا ۔۔

یار کتنا ہینڈسم انسان ہے عروج اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے شیزہ کے کان میں سرگوشی کئے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔۔

میں مانتی ہو یہ ہینڈسم ہے لیکن ولید جتنا نہیں ۔۔شیزہ کے منہ سے اچانک الفاظ نکلے عروج اسے خیرانگی سے دیکھنے لگی ۔۔

میرا مطلب ہے اللہ کی بنائ ہوئ تمام چیزیں پیاری ہی ہوتی ہے شیزہ اپنی بات بدلتے سامنے دیکھنے لگی ۔۔

ہیلو۔۔۔آپ یقینا مس شیزہ ہے اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ شیزہ کی جانب بڑھایا ۔۔

شیزہ نے بنا تکلف اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔جی میں ہی شیزہ ہوں اور آپ ؟؟

میرا نام اقبال خان ہے ۔۔

آپ سے مل کر اچھا لگا مسٹر اقبال ۔۔۔

پلیز مجھے صرف اقبال بولے ۔۔

مجھے یقین ہے آپ کے مینجر نے آپ کو ہماری پیشکش کے بارے میں بتایا ہو گا ۔۔

ہاں مجھے میرے مینجر نے بتایا تھا شیزہ عروج کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔

لیکن کچھ ایسی باتیں ہے جنہیں میں آپ کے ساتھ ڈسکس کرنا چاہو گی ۔۔

“ٹھیک ہے، مجھے یقین ہے کہ میں آپ کو ہر چیز کی مختصر وضاحت دے سکتا ہوں، اگر آپ برا نہ مانیں؟”

“ضرور، اس میں برا ماننے والی کونسی بات ہے

***

تو سب ہو جائے گا۔۔۔اقبال سڑھیاں اترتے ہوئے بولا

ٹھیک ہے آپ کا بہت شکریہ میں کل صبح وہاں ٹائم سے پہنچ جاوں گی شیزہ اسے باہر تک چھوڑنے کے لیے اس کے ساتھ آئ

میں نے آپ کے کام کرنا کا طریقہ دیکھا ہے وہ واقعی میں ہی بہت اچھا ہے اقبال کہے مسکرا گیا

“بریفنگ کے لیے شکریہ مسٹر اقبال ، ذاتی طور پر آپ سے مل کر اچھا لگا” شیزہ ہلکا سا مسکرائ

خوش قسمت تو میں ہوں جیسے آپ سے ملنے کا موقعہ ملا ۔۔آپ واقعی میں تصویروں سے زیادہ خوبصورت ہے

وہ خوبصورت ہے اس میں کوئ شک نہیں ۔دونوں نے ایک ساتھ سامنے دیکھا جہاں ولید کھڑا انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔

یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔شیزہ اپنے سامنے ولید کو کھڑے دیکھ بڑبڑائ ۔۔

ولید اس کے پاس آیا اس کے گال کو اپنے لبوں سے چھوئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے بلکل اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔۔

یہ آدمی مرنا چاہتا ہے،

ولید اس کے کان میں سرگوشی کئے بولا شیزہ اس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی لیکن ولید کی گرفت توڑنا ناممکن تھا ۔۔

شیزہ نے گہری سانس باہر چھوڑی ۔۔

اقبال خیرانگی سے اسے دیکھنے لگا اس سے پہلے شیزہ کچھ بولتی ولید بولا ۔۔

میری بیوی واقعی میڈیا کی تصویروں سے زیادہ خوبصورت ہے” ولید اقبال کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا ۔۔

“بیوی؟”

اقبال شیزہ کی طرف خیرانگی سے دیکھنے لگا ۔۔

“ہاں، بیوی” ولید پاگلوں کی طرح مسکراتے ہوئے بولا

جی ۔۔مسٹر اقبال یہ میرے شوہر ولید ہے شیزہ ولید کی جانب دیکھتے ہوئے بولی وہ اس کی آنکھوں غصہ اچھے سے دیکھ سکتا تھا

ولید اس کے غصے کی پروا کئے بغیر اس کی کمر پر مزید دباو ڈالے مسکرایا ۔۔

“واہ، یہ بہت اچھی بات ہے .. آپ دونوں ایک ساتھ بالکل پرفیکٹ لگ رہے ہیں،

مس شیزہ اب میں اجازت چاہتا ہوں

اوکے مسٹر اقبال پھر آپ سے ملاقات ہو گی ۔۔شیزہ پروفیشنلی طور پر مسکراتی ہوئ بولی ۔۔

مجھے چھونے کی ہمت کیسے ہوئ تمہاری شیزہ اسے خود سے دور کئے اپنی آواز دبائے دانت پیستی ہوئ سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔

سوری۔۔۔میرا دھیان ہی نہیں گیا آفس کا ٹائم ختم ہو گیا تھا تو اس لیے میں تمہیں لینے آیا تھا ۔۔

شکریہ میرے لیے تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے میرے پاس خود کی گاڑی ہے مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

میں تمہاری مدد تھوڑی کر رہا ہوں میں تو اپنی مدد کر رہا ہوں ولید اس کی غصے سے سرخ ہوئ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معصومیت سے بولا۔۔۔۔

آہ۔۔۔ولید تم مجھ سے دور رہو میرے نزدیک آنے کی کوشش مت کرو اور آئندہ مجھے چھوا تو اچھا نہیں ہو گا شیزہ پیر پٹکتی ہوئ اپنے آفس کی طرف بڑھی ۔۔۔

تم ابھی تک گئے نہیں شیزہ اپنا بیگ اور گاڑی کی چابی لیے واپس آئ تو ولید کو وہی اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا دیکھ بولی ۔۔۔

میں تمہیں لینے آیا تھا تو تمہیں لے کر ہی جاوں گا

تو کھڑے رہو یہاں کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہر گز نہیں جانے والی میرے پاس اپنی گاڑی موجود ہے مجھے کسی کی لفٹ نہیں چاہیے شیزہ ایک آخری نظر اس پر ڈالے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی ۔۔۔

آہ۔۔۔۔میرے خدا یہ کیسے ہوا شیزہ اپنے گاڑی کے ٹائروں کو دیکھ تقریبا چلائ ۔۔۔

گاڑی کے چاروں ٹائروں کی ہوا نکلی ہوئ تھی ۔

صبح تک تو یہ ٹھیک تھے شیزہ آگے پیچھے سے ٹائروں کو چیک کرنے لگی ۔۔۔

کیا ہوا ۔۔ساری ہوا نکل گئ ولید ہنستے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔

میرا مطلب ہے گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکل گئ ولید اسے غصے سے اپنی جانب دیکھتے ہوا دیکھ بات بدل گیا ۔۔۔

مجھے پتہ ہے یہ سب تم نے کیا ہے تم نے میری گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکالی ہے ۔۔۔

تم کچھ بھی کر لو میں تمہارے ساتھ نہیں جاوں گئ شیزہ اسے غصے سے دیکھتی ہوئ کمپنی سے باہر کی جانب بڑھی ۔۔۔

شیزہ یار ضد مت کرو دیکھوں شام کا ٹائم ہے اس وقت تمہیں یہاں سے ٹیکسی بھی نہیں ملے گئ

ولید اس کے راستے میں حائل ہوا ۔۔

تم سمجھتے کیا ہو خود کو جو دل میں آئے گا وہ کروں گئے کچھ بھی کر کے تمہیں بس اپنی بات پوری کرنی ہوتی ہے

چاہے اس کے لیے تمہیں کچھ بھی کیو نہ کرنا پڑے

شیزہ ابھی یہ سب باتیں کرنے کا ٹائم نہیں ہے سب لوگ دیکھ رہے ہیں چلو میرے ساتھ گھر چلو وہاں جا کر بات کرتے ہیں ۔۔۔

ولید اس کا ہاتھ پکڑے اسے گاڑی کی جانب لے جاتے ہوئے فرنٹ کا ڈور کھولے اسے اندر بیٹھائے خود دوسری طرف ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے گاڑی بھاگا لے گیا ۔۔

شیزہ تم ٹھیک تو ہوں ولید اسے سر پکڑے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے دیکھ پریشانی سے اس کی جانب بڑھا ۔۔

خبردار مجھے چھونے کی کوشش کی تو ورنہ میں گاڑی سے کود جاوں گئ شیزہ غصے سے لال پیلی ہوئ بولی ۔۔

اچھا نہیں لگاتا تمہیں ہاتھ۔۔ لیکن پلیز ریلکس رہو

ریلکس ۔۔۔۔تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے میں کیسے ریلکس ہو سکتی ہو میری زندگی تباہ کر دی شیزہ آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو کو پیچھے دھیکلنے لگی جو باہر آنے کو بے چین تھے اور ایسا شیزہ ہر گز نہیں چاہتی تھی وہ اس انسان کے آگے ہر گز کمزور نہیں پڑ سکتی تھی ۔۔

گاڑی میں ایک گہری خاموشی چھا گئ ۔۔

*****

یار میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ۔۔میری ساری کوششیں بیکار جا رہی ہے وہ مجھ سے بات کرنا گوارا نہیں کرتی آفس سے آنے کے بعد وہ اب تک اپنے کمرے میں بند ہے ۔۔

ان حالات میں ۔۔میں کیسے اس سے بات کرو ۔۔

ولید دانیال سے فون پہ بات کئے اداسی سے بولا ۔

فکر مت کرو ۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا بس اسے تھوڑا سا وقت دو ۔۔بس کچھ الٹا مت کر دینا جس سے وہ مزید ناراض ہو جائے ۔۔۔اچھا میں فون رکھتا ہوں مجھے لگ رہا ہے وہ نیچے آ رہی ہے میں تمہیں بعد میں کال کروں گا ۔۔۔

شیزہ اپنے نائٹ سوٹ میں موجود سڑھیوں سے نیچے اترتی کیچن کی جانب گئ ولید اسے دیکھتا ہی رہ گیا وہ گھٹنوں تک آتی نائٹی میں موجود اس کے دل پہ بجلیاں گرا رہی تھی اس پر سے نظر ہٹانا ولید کے لیے مشکل ہو رہا تھا تقریبا ایک مہینے سے شیزہ اس طرح کے نائٹ ڈریس پہن کہ ولید کو بے تاب کئے ہوئے تھی ۔۔اس سے پہلے اس کی نیت بدلتی ولید اپنی نظریں اس سے ہٹائے ٹی وی کی جانب کئے اپنا دھیان بھٹکانے لگا ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد شیزہ کوکیز،اور آئس کریم کی پلیٹ لیے ولید کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گی ۔۔

ولید کی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔

اس کی نظریں اس کے سرخ ہونٹوں کو دیکھ رہی تھی ولید کا دل جلنے لگا جب شیزہ نے ٹھنڈی آئس کریم کھانے کے بعد آہ بھری اس خود پر قابو پانا مشکل ترین کام لگ رہا تھا

اپنے آپ پر قابو رکھو ولید ۔۔کوئ بیوقوفی مت کرنا ولید اپنے ذہن سے سب سوچیں جھٹکے اپنی نظریں ٹی وی کی جانب پھیر گیا

وقفے وقفے سے ولید شیزہ کی جانب دیکھ رہا تھا اس کی آنکھیں اس کے بس میں نہیں تھی ولید کو پورا یقین تھا کہ یہ جان بوجھ کر اس کے سامنے چھوٹے کپڑے پہن کر یہ سب کر رہی ہے اس کا دل جلا رہی ہے ۔۔

ولید کی بس تو تب ہوئ جب شیزہ اپنا موبائل اٹھائے ٹی وی کی جانب بڑھی اپنا فون چارجر پہ لگانے لگی اس کی پیٹھ ولید کی طرف تھی ۔۔

ولید کو اب یقین ہو گیا تھا وہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر رہی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنا فون اپنے کمرے میں چارج کرتی تھی اسے یہاں ٹی وی پاس اپنا فون چارج کرنا پسند نہیں تھا

اپنا فون چارج پہ لگائے شیزہ ایک ادا کے ساتھ واپس اپنی جگہ بیٹھ گی اس کی نائٹی کا گلہ کافی ڈیپ تھا ولید لاکھ اس سے نظریں ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہٹا نہیں پا رہا تھا ۔۔

ولید مت دیکھو اس کی طرف مت دیکھو ۔۔۔وہ یہ سب جان بوجھ کر رہی ہے یا اللہ یہ لڑکی میرے ساتھ آخر کرنا کیا چاہتی ہے ۔۔۔

ولید کی حالت دیکھ شیزہ کو بہت سکون حاصل ہو رہا تھا وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے ایسی ڈریس پہن کے آئ تھی اور جان بوجھ کر یہ سب حرکتیں کر رہی تھی وہ اسے تڑپنا چاہتی تھی جو آج اس نے اس کی گاڑی کے ساتھ کیا اسے اس کے لیے سزا دینا چاہتی تھی اس کے ذہن میں بس یہی ایک طریقہ آیا تھا ۔۔

شیزہ ولید کی حالت کو بہت انجوائے کر رہی تھی اسے بار بار پہلو بدلتے دیکھ اسے بہت ہنسی آ رہی تھی لیکن وہ ظاہر نہیں کر رہی تھی ۔۔

آخر کار ولید تھک ہار کر ایک نظر اسے پہ ڈالے وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چل دیا اگر مزید وہاں رہتا تو اپنے آپ پر کنٹرول کھو دیتا ۔۔۔

ولید کے جانتے ہی شیزہ کے لب کھل کے مسکرائے ۔۔اپنے فون لیے کوکی اور آئس کریم کی پلیٹ اٹھائے وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے اپنے روم میں چلی گئ ۔۔۔۔

Bharosa By Zaisha Khan Read Online


Bharosa By Zaisha Khan Download PDF

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top