The novel Mohabbatein Shoq Dil Parindon Si By Fatima Mehmood is a romantic Urdu novels pdf, written by a famous Pakistani novelist Fatima Mehmood . You can download or read this novel online complete from here in PDF format.
Novel: Mohabbatein Shoq Dil Parindon Si
Writer: Fatima Mehmood
Status: Completed
Intresting Part Of Mohabbatein Shoq Dil Parindon Si
گھر میں سمائرہ کے آنے کی وجہ سے رونق تھی۔ ہر کوئی زویان کے نام کا ہی ورد کر رہا تھا۔ وہ کالی آنکھوں والا گول مٹول بچّہ جو کہ دو سال کا تھا،لیکن سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ لڑکیوں میں سے اگر کوئی ایک اسے کھلاتے تھک جاتی تو دوسری اٹھا لیتی،کبھی لڑکے اٹھالیتے،کبھی بڑوں کے پاس ہوتا،وہ بھی خوش تھا اتنے لوگوں کو دیکھ کر۔
ذمیہ دوپہر کو لان میں اسے گود میں اٹھائے گول گول گھما رہی تھی کہ عادل کی گاڑی اندر آئی۔ وہ سیدھا اتر کر ان کے پاس ہی آیا۔ ذمیہ نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا جو کہ چہرے پر مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔ شازب بالکونی میں کھڑاادھر ادھر دیکھنے کے ساتھ لان کا بھی جائزو لے رہا تھا۔
عادل نے زویان کو ذمیہ سے پکڑ کر اوپر چھالا تو وہ کھلکھلایا ذمیہ بھی مسکرا کر دیکھنے لگی۔
“السلام علیکم! ذمیہ میں تمہیں سے بات کرنے کےلیے آیا تھا۔ “عادل نے پاس کھڑی ملازمہ کو زویان کو پکڑاتے کہا، ملازمہ اسے لے کر اندر بڑھ گئی۔
“وعلیکم سلام لیکن ۱٪ شیورٹی۔” جس پر عادل اس کی عقلمندی پر کھل کر مسکرایا تھا۔
“ماشاءاللہ سے عقلمند ہوتی جارہی ہو اب یہ بھی بتادو تم نے میری شادی کےلیے کس لڑکی پر نظریں ٹکائی ہوئی ہیں؟”پہلی بات مسکرا کر کہتا دوسری بات پر وہ آبرو اچکا گیا۔
“ہے وہ خوبصورت سی،معصوم سی،شوق دل، پودوں سے پیار کرنے والی،پھولوں کے ساتھ مسکرانے والی،جس کے کالے ناگن جیسے بال،صراحی جیسی گردن،موتیوں جیسے چمکتے دانت،پنکھڑیوں جیسے لب۔۔۔۔”
“آ۔آ رکو تم مجھے لڑکی کا بتا رہی ہو یا کسی شاعر کی غزل کی تشریح سنا رہی ہو؟”عادل کے ٹوکنے پر ذمیہ نے ناک چڑھایاجیسے بات گراں گزری ہو۔
“صبر بھی رکھ لیں پہلے شادی نہیں کروانی تھی اب لڑکی،لڑکی رٹ لگائی ہوئی ہے۔” اس نے خفگی سے کہا تو عادل کو اپنا ٹوکنا برا لگا۔
“اچھا اچھا سناؤ کوئی قصیدہ رہ نہ جائے ان محترمہ کی شان میں۔”
“جیلس نہ ہوں۔”ذمیہ نے ٹیڑھی آنکھ کر کے دیکھا۔
“نہیں ہورہا تم بتاؤ لڑکی کا نام۔”
“جاننے کا اگر زیادہ ہی تجسس ہو رہا ہے نا تو مسٹر عادل عمر شاہ ایک دن کا انتظار کیجئے ورنہ میں آپ کی شادی کے بعد غدار کہلواؤں گی۔”ذمیہ اس کے آگے ہاتھ جوڑتی جلدی سے آگے بڑھی اور اندر چلی گئی۔ شازب بھی کھڑکی سے پرے ہوگیا۔عادل بھی پیچھے اس کی بات کو سمجھتا اندر چلا گیا تا کہ شازب سے ملاقات ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارے تم مصروف ہی اتنی ہوگئی ہوکہ کب آرہی ہو کب جا رہی ہو کچھ پتہ ہی نہیں اور یہ تک فکر نہیں کہ بہن آئی ہے۔” رومی نے دعا کے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے بالوں کو سیٹ کرتے بےجان سا شکوہ کیا۔
“مصروف تو میں ہوں ہی اور فکر کیوں کروں جب تم نےفضول لوگوں کی کمپنی انجوائے ہی کرنی ہے۔”دعا نے ایک نظر لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھا کر جواب دیا پھر دوبارہ نظریں جھکالیں۔ رومی اس کے نروٹھے پن پر مسکرائی اور برا نہ منایا کیونکہ وہ اس کے لہجے سے بخوبی واقف تھی۔
“یہاں ہم دونوں کو ہی معلوم ہے کہ فضول لوگوں کی کمپنی کون انجوائے کرتا ہے بس یہاں پر مسٔلہ اس بات کا ہے کہ غور نہیں کیا جاتا۔”رومی بالوں کو اک ادا سے جھٹکتی سیدھی ہوئی۔
” کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا؟” دعا نے تیوری چڑھائے دیکھا۔
“کچھ نہیں تمہاری بیسٹ فرینڈ کا نام کیا ہے؟”رومی نے بات کو بدلا۔
“شہیرا۔”دعا نے یک لفظی جواب دیا۔
“پورا نام؟”رومی نے آبرو اچکائے۔
“شہیرا وجدان۔”
“اوکے۔”
“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” دعا نے شکّی نگاہوں سے دیکھا۔
“ویسے ہی مجھے کیا۔”رومی اطمیناناً کہتی ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھتی باہر نکل گئی پیچھے دعا نے نفی میں سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رومی!تم سے ایک بات پوچھوں؟”
” ہوں۔” ذمیہ سونے کیلیے لیٹنے لگی تھی جب اسے کچھ یاد آیا اور کہنیوں کے بل اوپر ہوئی۔ رومی بھی اس طرف چہرہ کر کے لیٹ گئی۔
“عادی بھائی کیسے لگتے ہیں تمہیں؟”
“تم کیوں پوچھ رہی ہو؟”رومی نے اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر آئبرو اچکائے۔
“ویسے ہی پوچھ رہی ہوں۔”
“اچھا پھر میری یہ رائے ہے کہ ٹھیک ہیں بس شازب سکندر شاہ عرف شازب بھائ سے تو اچھے ہیں۔”رومی نے ہاتھ پھیلائے کہا۔
“کہہ تو صحیح رہی ہو اگر ان کے ساتھ شادی ہو جائے اور گزارا؟”
“بی بی بریک پر پاؤں رکھو کہیں تم۔۔۔؟”رومی نے شکی نگاہیں اس پر جمائیں۔
“شرم کرو میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی بتاؤ تو سہی۔۔؟”
“ہوں ویسے گزارا بھی ہو سکتا ہے ہنستے مسکراتے بھی رہتے ہیں۔”
“ہنستے مسکراتے بھی ہیں وہ بھی دوسروں کو جلا کر۔”ذمیہ نے اس کے فقرے کی توصیح کی۔
“اچھا تم یہ چھوڑو میں نے دعا سے پوچھا تھا اس کی دوست کا نام شہیرا وجدان ہے۔”
“اس معاملے میں ایک بندہ ہی ہمارا ساتھ دے سکتا ہے۔”
” کون؟”
“بتاؤں گی بتاؤں گی تھوڑا صبر کرو ایک کام نمٹانے دو۔”ذمیہ نے پرسوچ نگاہوں سے جواب دیاتو رومی اس کو اسی کے حال پر چھوڑتی کروٹ بدلتی آنکھیں موندھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہال میں کھڑی زویان کو اٹھائے اچھال رہی تھی جب وہ آندھی طوفان بنتاوہاں آیا اور زویان کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا۔ ذمیہ نے اچانک پڑتی اس آفت کو دیکھا جہاں عادل زویان کے گال پر بوسہ دے رہا تھا۔
“جلدی بتاؤ۔”عادل نے دبی آواز میں کہا تو ذمیہ ہوش میں آئی۔
“اچھا۔اچھا وہ دیکھیں۔”ذمیہ نے انگلی کا اشارہ سیڑھیوں سے اترتی لڑکی کی طرف کیا۔عادل نے اسے دیکھا پھر کیا تھا عادل کے دل کو وہ نٹ کھٹ سی لڑکی بھا گئی تھی۔ کندھوں سے نیچے آتے کالے بال،ڈارک براؤن چھوٹی چھوٹی آنکھیں،تیکھے نقوش اس کی سفیدی رنگت پر بہت بھلے لگ رہے تھے۔ وہ ریڈ ٹی شرٹ کے ساتھ بلیو ٹراؤزر میں ملبوس تھی۔
“گلابی باریک ہونٹ،سفیدی مائل رنگت،تیکھی نٹ کھٹ سی ناک،صراحی سی گردن،ناگن سے بال،قاتل آنکھیں۔”ذمیہ نے اس کی خوبصورتی بڑھ چڑھ کر بیان کی۔عادل تو اس کے سحر میں ہی کھو گیا تھا۔یہ نہ تھا کہ اس نے اسے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا لیکن اب شاید قسمت تھی۔
زویان کے رونے پر عادل ہڑبڑا کر ہوش میں آیا اور جلدی سے اسے ذمیہ کو پکڑاتا باہر چلا گیا۔
“اسے کیا ہوا تھا؟اور تم دونوں مجھے یوں گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے تھے؟” رومی نے عادل کی پشت دیکھتے کہا۔
“ک۔کچھ نہیں میں بس تمہارا انتظار کر رہی تھی۔”ذمیہ نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پایا۔
“کیوں؟”
“ویسے ہی میں نے کہا زویان کے ساتھ کھیل لیتے ہیں۔”ذمیہ نے مسکراتے بات بدلی تھی۔
“تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو نا؟”
“ن۔نہیں میں نے کیا چھپانا پارٹنر۔”ذمیہ نے بات کو سنبھالا اور زویان کو اٹھائے رومی کو ساتھ لیے باہر چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجاھت شاہ(شاہ ابٌا) اور نسیم شاہ(شاہ بی بی) کے تین بیٹے تھے۔سب سے بڑے بابر شاہ اور ان کی زوجہ سُہانہ شاہ تھیں ان کے تین بچّے تھے سب سے بڑا بیٹا شازب سکندر شاہ تھا جو کہ شاہ حویلی کا بڑا وارث تھا اس کے بعد نویرہ پھر المیشا تھی۔دوسرے نمبر پر ابرار شاہ تھے اور ان کی زوجہ ماریہ شاہ تھیں ان کے چار بچّے تھے سب سے بڑی بیٹی سمائرہ پھر دعا پھر دائم اس کے بعد رومی۔آخر میں آتے ہیں دلاور شاہ ان کے دو ہی بچّے تھے کیونکہ ان کی زوجہ حیات نہیں تھیں، بڑی بیٹی ذمیہ دلاور شاہ اور بیٹا دانیال تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امّی شکوہ کیوں کرتی ہیں اب آتو گئ ہوں آپ کے پاس رہنے کےلیے۔”سمائر نے اپنی ساس راحیلہ بیگم کو اپنا ارادہ بتا کر پُرسکون کیا۔
“اچھا شکر ہے اور میرا پوتا اسے تو میں دیکھنے کو ہی ترس گئی تھی۔”راحیلہ بیگم نے زویان کا ماتھا چوما۔
“امّی روز ہی تو ویڈیو کال پر دیکھتی تھیں۔”
“لیکن سامنے تو اب آیا ہے میرا پوتا۔”
“واہ آج تو میرا بھتیجا آیا ہے۔”عادل لاؤنج کے صوفے پر براجمان ہوا۔
“دیکھ لیں امّی اسے یہ اس دن سے کئی چکّر لگا چکا ہے اب لاعلمی کا اظہار کر رہا ہے۔”
“اس کا تو خون ہی سفید ہو گیا ہے۔” راحیلہ بیگم نے خفگی سے شکوہ کیا۔
“کیوں میرا کیوں سفید ہو گیا ہے؟”
“کبھی کہا کہ ماں کو بھی لے جاؤں شاہ ولا میں نہ یہ تو نافرمانی ہوگی۔”
“امّی صحیح کہہ رہی ہیں اب اس کی بھی شادی کردیں امّی۔”راحیلہ بیگم سمائرہ کے مشورے پر مسکرادیں۔
“میرا خیال ہے شاہ ولا کے لوگوں کو میری شادی کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے۔”
“ایسا کس نے کہا؟”
“بیٹا وہ اس دن نویرہ اور ذمیہ بھی یہی کہہ کر گئی تھیں، ذمیہ نے تو لڑکی بھی ڈھونڈ لی ہے۔”
“کون ہے وہ لڑکی؟” سمائرہ نے دلچسپی سے پوچھا۔عادل خاموشی سے زویان کو کھلاتا رہا۔
“پتہ نہیں اب فون آئے تو پوچھوں گی۔”راحیلہ بیگم مسکرادیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چچی دائم بال کھینچ کر تنگ کررہا ہے۔”نویرہ نے لاؤنج سے ہی ماریہ بیگم کو آواز لگائی۔دائم معصومیت سے دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“کیا مسٔلہ ہے دائم تمہیں؟” ماریہ بیگم ماتھے پر تیوری چڑھائے آئی تھیں۔
“کیا کہا ہے میں نے؟”بلا کی معصومیت سے پوچھا گیا۔
“چچی میں خاموشی سے یہاں بیٹھی تھی یہ اندر آیا اور میرے بال کھینچ کر وہاں صوفے پر بیٹھ گیا۔نویرہ نے بچّوں سا منہ پھلائے ہاتھ سے اشارہ کرتے کہا۔
“دائم کیوں کھینچے ہیں بہن کے بال کتنے بڑے ہو گئے ہو اور حرکتیں؟”
“چچی آپ کو دادو اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں۔”اس سے پہلے کہ ماریہ بیگم اس کی مزید خاطر داری کرتیں المیشا نے آکر پیغام دیا تو وہ دائم کو گھورتی وہاں سے چلی گئیں۔
“بال ہی کھینچے تھے کوئی پہاڑ تو نہیں ٹوٹ کر گرا تھا؟”
“واہ۔واہ دائم بھائی ہم آپ کے کھینچ کر بتاتے ہیں پتہ ہے کہ کتنا درد ہوتا ہے۔”نویرہ کی بجائے المیشا نے ہاتھ نچا کر جواب دیا۔
“مینڈکوں کو بھی زکام ہو گیا ہے۔”دائم ناک پھلا کر کہتا باہر چلا گیا۔
“مینڈک نہیں ٹڈیاں محاورہ صحیح کریں دائم بھائی۔”المیشا نے پیچھے سے ہانک لگائی تو وہ اگنور کر گیا۔
“آپی میں آپ کو ہی بلانے آئی تھی ذمی اور رومی آپی بلا رہی ہیں اوپر۔”المیشا نے کہا تو دونوں باہر نکل گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذمیہ اور نویرہ کے فائنل ایگزامز ہو چکے تھے اسی لیے سمسٹر بریک میں نویرہ تو سوسو کر دن گزار لیتی جبکہ ذمیہ سارا دن شرارتوں میں ہی لگی رہتی۔
لان کے ایک حصّے میں شاہ بی بی بیٹھیں گاؤں کی عورتوں کے مسئلے سلجھا رہی تھیں۔
ذمیہ بھی ہاتھ میں چپس کے پیکٹ پکڑے ایک کُرسی پر بیٹھ گئی اور کُرسی کی پشت کے گرد بازو لپیٹ لیے۔جب ایک عورت رورو کر شاہ بی بی کو اپنا مسئلہ سنانے لگی،یہ دیکھ کر ذمیہ کی بھی آنکھوں میں مصنوعی آنسوآنے لگے۔تھوڑی دیر بعد ایک اور عورت بین ڈال کر شاہ بی بی کے سامنے رونے لگی۔ذمیہ بھی زور زور سے قہقہہ لگانے لگی۔سب کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
“شاہ بی بی ذمیہ بی بی کے ہنسنے کی وجہ سے عورتیں خفا ہو رہی ہیں اور باتیں بنا رہی ہیں۔”ملازمہ نے ان کے کان کے قریب سرگوشی کی تو شاہ بی بی نے ماتھے پر تیوری چڑھائے ذمیہ کو دیکھا تو اس کی مسکراہٹ سمٹی۔
“شاہ بی بی میرا شوہر نشہ کرتا ہے اور کل بھی وہ مجھے مار پیٹ کر سارے پیسے لے گیاجو میں نے بچا کر رکھے تھے۔”ایک عورت روتے ہوئے بتانے لگی۔
“ویسے آنٹی آپ کو بھی چاہیے تھا برابر میں مارتیں تا کہ اسے بھی پتہ چلتا کہ مار کھا کر کیسا محسوس ہوتا ہی۔”
“استغفار۔”اس عورت کو بات ناگوار گزری تھی۔
“لو بھئی کرلو بات دو لگانی تھیں سیٹ ہوجاتا یا پھر ایسا کیجئے گا کہ آئندہ ابنے پاس ڈنڈا رکھیے گا اور جب وہ مارنے لگے تو مار دیجئے گا حساب برابر کرنا سیکھیے۔”
“نہ بی بی شوہر تو مجازی خدا ہوتا ہے۔”
“تو پھر اک کام کریں اپنی
ساس کو کہیے گا کہ اپنے بیٹے کو بچپن میں ہی تھوڑی عقل تمیز سکھا دیتیں کم از کم آپ ظلم سے تو بچ جاتیں کیونکہ آپ تو ہمّت کر نہیں رہیں۔”
“توبہ توبہ بی بی یہ تو آجکل کی لڑکیوں کی اتنی زبانیں ہیں۔”
“آپ میری زبان پر نہ جائیں خود پر ترس کھائیں اور اسے پولیس کو پکڑوادیں کیونکہ شاہ بی بی یعنی دادو یہاں پر صرف اور صرف آپ کی پیسوں کے ذریعے مدد کر سکتی ہیں آپ کو اپنے لیے ہمّت خود کرنی ہوگی۔یہ عورتوں نے ہی شوہروں کو سر چڑھایا ہوتا ہے،اور میں یہ نہیں کہہ رہی کہ سارے مرد ہی ایسے ہوتے ہیں،کئی شوہر تو بہت زیادہ بیویوں کی قدر کرتے ہیں مگر بیویوں کو قدر راس نہیں آتی۔بلکہ میری تو رائے ایک اور ہے کہ اگر آپ کا کوئی بیٹا ہے تو اسے ضرور عورت کی عزّت اور قدر کرنا سکھائیے گا۔”ذمیہ سنجیدگی سے کہتی وہاں سے چلی گئی۔پیچھے سب نے اس کی بات پر اتفاق کرتے سر اثبات میں ہلایا،شاہ بی بی تو اس کی بات پر پھولے نہ سمارہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دانی! بات تو سنو دانی تم غصّہ ہو کر کیوں جارہے ہو دانی! دانی!” دانیال منہ پھلائے آگے آگے تھا اور المیشا اس کے پیچھے پیچھے جارہی تھی۔
“ان دونوں کا سارا دن یہی ختم نہیں ہوتا وہ روٹھی محبوبہ کی طرح آگے آگے اور المیشا محبوب کو راضی کرنے میں۔”ذمیہ نے گہری مشاہدت سے پاس بیٹھی رومی کو بتایا تو رومی قہقہہ لگا گئی۔
“کیا ہے دانی بات تو سنو۔۔”دانیال کمرے میں داخل ہونے ہی والا تھا کہ المیشا نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔
“میں نے تمہارا فٹ بال خراب نہیں کیا میں نے بس اچھالا تھا کہ وہ نوکیلی چیز پر لگ گیا۔”المیشا نے روہانسے ہوتے صفائی پیش کی۔
“مجھے تمہاری کوئی دلیل نہیں چاہیے تم ہمیشہ ہی ایسے کرتی ہو۔”
“میں نے نہیں کیا دانی۔۔۔” اس کے سخت لہجے پر المیشا کی آنکھیں ڈبڈبائیں۔
“میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتا جاؤ یہاں سے۔”دانیال دھاڑا اور اس کی دھاڑ کی آواز سیڑھیوں سے اوپر آتی ذمیہ کے بھی کانوں میں پڑی۔
“یہ کس لہجے میں تم اس سے بات کر رہے ہو؟ تمہارا دماغ کہاں ہے؟ابھی میں نیچے اس عورت کو کہہ کر آئی ہوں اور میرا بھائی خود ایسے دھاڑ رہا ہے۔”ذمیہ نے المیشا کو ابنے ساتھ لگایا جس کی آنکھوں سے دو تین آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ گئے تھے۔
“آپی اسےبھی تو۔۔۔”
“دانیال میں آئندہ تمہارا ایسا لہجہ کبھی نہ دیکھوں آگئی سمجھ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”ذمیہ اسے سپاٹ انداز میں کہتی المیشا کو لیے نیچے چلی گئی،پیچھے وہ شرمندگی سے سر جھکائے اندر چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذمیہ بیڈ پر بیٹھی اپنے موبائل میں مصروف تھی جب دانیال آہستگی سے دروازہ کٹھکٹھاتا اندر آیا۔ذمیہ نے اسے ایک نظر دیکھا پھر موبائل پر جھک گئی۔
“آپی آئے ایم سوری۔۔۔”دانیال بیڈ کے ایک کونے پر شرمندگی سے نظریں جھکائےبیٹھ گیا۔
“دانیال اب کس بات کی سوری کرنے آئے ہو یہ سب تو تمہیں نہیں سکھایا تھا نا؟”
“سوری کر تو رہا ہوں ویسے بھی وہ مجھے غصّہ آگیا تھا۔”دانیال اس کے سامنے گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا۔
“کس کا غصّہ تھا تمہیں۔”ذمیہ اس کی طرف مکمل متوجہ ہوئی۔
“ویسے ہی اب کوئی اکیلا باہر جو نہیں نکلنے دیتا بابا نے بھی منع کیا ہے۔”
“اچھا تو میرے بھائی نے اس بات کا غصّہ اس بچی پر نکالا،میری بات دھیان سے سنو ہر وقت ناراضگی نہ دکھایا کرواس کی قدر کرو وہ بیچاری ہر وقت تمہیں منانے کی کوشش میں ہی رہتی ہے اور تم۔۔۔”ذمیہ نے آہستگی سے اس کا کان کھینچا۔
“اچھا معاف کر دیں اس سے بھی معافی مانگنی ہے۔”
“اچھا کردیا معاف اور اس سے بھی معافی مانگتے وقت چاکلیٹ لازمی لے کر جانا یوں ہی نہ چلے جانا۔”
“اوکے شکریہ!”دانیال اس کا گال چھوتا باہر نکل گیا وہ بھی سر جھٹک کر مسکرادی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے فارم ہاؤس میں موجود ایک خفیہ کمرے میں کھڑا اپنے کام میں مصروف تھا۔اس نے جتنی کامیابی حاصل کرنی تھی وہ کر چکا تھا لیکن اب اس کے نزدیک جو کام زیادہ عزیز تھا وہ دشمنوں کو ڈھونذنا تھا۔اس نے عماد سے جن لوگوں کی انفارمیشن نکلوائی تھی ان کا سکندر یا اس کی جائیداد سے کوئی واسطہ نہ تھا پھر کون ہو سکتا تھا جو اس پر کبھی کبھار حملہ کروارہا تھا وہ جانتا تھا کہ اس میں عاشر شریف بھی انوالو ہے مگر یہ کام اکیلا اس کا نہیں ہوسکتا تھا۔ابھی پچھلے ماہ ہی تو اس کی گاڑی کے ٹائر پر گولی چلوائی گئی تھی لیکن خوش قسمتی سے وہ ٹھیک ٹھاک تھا۔سوچ سوچ کر اس کا سر دردسے پھٹنے کو تھا۔اسی لیے اس نے اوور کوٹ پہنا اور گھر جانے کا سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میری پیاری کزن کب بتا رہی ہو تم میری والدہ کو لڑکی کے بارے میں؟”عادل کی فون سے چہکتی ہوئی آواز آئی تھی۔
“ویسے تف ہے آپ پر شادی کے نام پر آپ بدل ہی گئے ہیں کتنے طنز کیا کرتے تھے اب جب کزن کے بعد بیوی کی باری آئی تو عادت ہی بدل گئی۔”ذمیہ لان کے نرم گھاس پر ٹہلنے کے ساتھ ساتھ فون پر بات بھی کر رہی تھی۔آج معمول سے ہٹ کر کم سردی تھی جس کی وجہ سے وہ آرام سے لان میں ٹہل رہی تھی۔
“بس کیا کروں سوچا بدل ہی لیتا ہوں عادات کو بھی اور تم سے بہتر کون جانتا ہے کہ تم میرے طنز پر تنگ ہوتی تھی اور وہ طنز تمہیں تنگ کرنے کو ہی کیے جاتے تھے۔”اس کی بات پر ذمیہ قہقہہ لگا گئی،تبھی اس کی نظر دروازے سے اندر آتی شازب کی گاڑی پر پڑی اور مسکراہٹ سمٹنے کے ساتھ ماتھے پر ناگوار بل بھی چھائے تھے۔سُرخ آنکھوں سے اس نے اتر کر اسے دیکھا جو اسی کی طرف متوجہ تھی اس کی آنکھوں میں بَلا کی سنجیدگی کو دیکھ ذمیہ ساکت ہوئی تھی،لیکن فون سے آتی عادل کی آواز پر ہوش میں آئی۔شازب بھی اس پر آخری نگاہ ڈالتا چھوٹے چوٹے قدم اٹھاتا اندر بڑھ گیا۔
“بولو کب بتا رہی ہو؟”
“ہوں وہ تو میں بتادوں گی مگر اس سے پہلے تمہیں لڑکی کو امپریس یا کنوینس جو بھی ہے کرنا ہوگا۔”ذمیہ نے شرط رکھ دی۔
“ٹھیک ہے تو وہ کام تمہارے بغیر نہیں ہوسکتاہے نا۔۔۔”
“ہوں صحیح فرمایا ہے بس اب انتظار کیجئے گا میرے حکم کا۔”ذمیہ ہنس کر کہتی فون بند کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی گہری تاریک رات،وہی خوفناک منظر،اسی درخت کے پیچھے وہ ڈری سہمی سی بچّی کھڑی تھی۔یہ ایک ایسا راز تھا جسے کوئی جان نہ سکا یا کسی نے جاننے کی کوشش ہی نہیں کی یا بھلاگئے تھے۔وہ درخت کے پیچھے کھڑی تھی آج سولہ سال بعد اسے چہرے کچھ واضحح نظر آرہے تھے۔وہ خواب میں تھی مگر اس کی حالت ایسے تھی جیسے وہ حقیقت میں وہاں ہو۔ایک عورت زمین پر بےسدھ پڑی ہوئی تھی یا شاید وہ دم توڑ چکی تھی۔ اس کے ارد گرد خون پڑا ہوا تھا شاید اسی عورت کے زخمی سر سے ہی بہہ کر زمین پر پھیل چکا تھا۔اس عورت کے آگے شاید تین چار لوگ کھڑے تھے۔دھندلایا ہوا منظر تھا۔مگر آج پہلے سے صاف تھا۔ایک آدمی بیضوی چہرے کے ساتھ مکمل داڑھی کی بجائے فقط ٹھوڈی پر ہی بالوں کا مالک تھا،اس آدمی کی شکل قدرے واضحح تھی۔وہ آنکھوں میں بےپناہ خوف لیے “ماما، ماما” پکار رہی تھی اور آہستہ آہستہ پکار اونچی ہوتی گئی اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دہلا دینے والی چینخ مارتی خواب سے بیدار ہوگئی،ہمیشہ کی طرح پسینے سے شرابور جسم اور اکھڑتی سانسیں جیسے پتہ نہیں کس دوڑ کے مقابلے میں بھاگ کر آئی ہو ہاں مگر دوڑ تو تھی ہی زندگی اور موت کی۔رومی بھی ڈر کر اٹھی۔دلاور شاہ کے ساتھ باقی گھر کے افراد بھی وہاں آچکے تھے۔دلاور شاہ نے جھٹ اسے سینے سے لگایا۔
“کلم ڈاؤن! کالم ڈاؤن!”دلاور شاہ نے اس کے کانپتے وجود کو خود سے جدا کیا اور پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا۔شازب بھی اس کے دروازے کے پاس آکھڑا تھا۔
“بابا ماما،ما۔ما زمین پر خ۔خون۔۔۔”وہ آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔
“کچھ نہیں ہوا،کچھ بھی نہیں ہوا خاموش میرا بچّہ روتے نہیں ہیں بابا ہیں نا پاس۔”دلاور شاہ اس کا بھیگا چہرہ ہاتھوں میں لیے اسے پچکار رہے تھے۔
“اورآپ کو۔پ۔پتہ ہےبابا۔”اس کی ہچکی بندھ گئی تھی۔وہ کسی معصوم بچّے کی طرح بتا رہی تھی۔
“آج خواب میں م۔مجھے ایک آدمی تھوڑا تھوڑا نظر آیا تھا،ما۔ما زمین پر پڑی تھیں پر وہ لوگ انہیں نہیں اٹھا رہے تھے۔”وہ اندر ہی روانگی سے اور پھر اندر ہی اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔
“اچھا میری جان بھول جاؤ وہ خواب تھا صرف خواب دیکھو بابا ہیں نا اور دیکھو رومی بھی ڈر گئی چلو تم میڈیسن کھاؤ شاباش۔”دلاور شاہ نے اس کی توجہ رومی پر دلائی تو اس نے گردن موڑ کر پرے سہمی بیٹھی رومی کو دیکھاجو کہ اب آگے کو ہوئی تھی پھر وہ دلاور شاہ کو دیکھنے لگ گئی۔دلاور شاہ نے اسے میڈیسن دی اور پھر لحاف اوڑھا کر لٹا دیا وہاں پر کھڑا کوئی نفس نہ بولا کیونکہ سبھی کو معلوم تھا کہ وہ دلاور شاہ سے ہی پُرسکون ہوتی تھی۔سب وہاں سے نہ ہلے جب تک کہ وہ سو نہ گئی اس وقت اڑھائی بج رہے تھے اس کے سونے کے بعد سب نے اپنے اپنے کمروں کی راہ لی۔شازب بھی تاسف سے سر جھٹکتا اپنے کمرے میں آگیااور گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ناشتے کی ٹیبل پر مگن انداز میں ناشتا کر رہے تھے۔جبکہ وہ سوچوں میں مگن تھی۔ہاتھ میں فوک پکڑے وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ چکی تھی،جب شاہ صاحب کی آوز پر وہ چونکی اور ادھر ادھر نظر دوڑا کر اس نے ڈوپٹے کو سیٹ کر کے شاہ صاحب کی طرف دیکھا۔
“جی دادا جان؟”
“پتر کھانا کیوں نہیں کھا رہی کب سے دیکھ رہا ہوں۔”
“نہ۔نہیں دادا جان ایسی بات نہیں ہے کھا رہی ہوں۔”وہ دوبارہ پلیٹ پر سر جھکا گئی۔
“دادا جان کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اب گھر میں کوئی فنکشن ہونا چاہیے۔”المیشا نے ڈائننگ ٹیبل پر موجود خاموشی کو توڑا تھا۔
“المیشا آرام سے کھانا کھاؤ۔”سُہانہ بیگم کے ڈپٹنے پر اس نے منہ بسور کر شاہ صاحب کی طرف دیکھا۔
“چل پھر اپنے بھائی کو بول پُتر کہ وہ شادی کروالے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔”شاہ صاحب نے شازب کو دیکھتے کہا تو اس نے ایک نظر شاہ صاحب کو دیکھا پھر کھانے میں مصروف ہوگیا،جیسے کسی اور کی بات کی گئی ہو۔دعا کا دل خوش ہوا تھا۔
“کیا کہتا ہے سکندر؟”شاہ صاحب گویا آج اسے منانے کی ٹھان ہی چکے تھے۔
“میں نے کیا کہنا ہے کروادیں شادی لیکن لڑکی میری پسند کی ہوگی۔”مسکراہٹ چہرے پر سجائے اس نے کئی دل خوش کیے تھے۔
“کیا وہ خاندان سے ہے؟”شاہ صاحب نے آبرو اچکائے۔
“شاہ ابّا لڑکی کی تصویر میں آپ کو دکھا دوں گا اور لڑکی سے ملوادوں گا آپ بےفکر رہیں بہت پسند آئے گی آپ کو۔”اس کے جواب پر جہاں کئی دل خوش ہوئے تھے وہیں ایک دل چھناک سے سینے میں ٹوٹا تھا۔دعا کا رنگ فق پڑ گیا اسے لگا جیسے سب کچھ تھم گیا ہو اُس نے لڑکی سے ملوانے کا کہا تھا تو صاف مطلب تھا کہ وہ ٹھکرائی گئی تھی۔دُعا ابرار شاہ شازب سکندر شاہ کے ہاتھوں ٹھکرائی گئی تھی،وہ شخص جسے اس نے چاہا تھا،جسے اس نے آئیڈیل مانا تھا،وہ شخص جو ذمیہ سے لڑ بھی لیتا تو وہ جلتی تھی اُسے کھونے سے ڈرتی تھی اور وہ آج بآسانی ٹھکرا گیا تھا (لیکن یہ اس کا بھی قصور نہیں تھا کیونکہ تم نے کبھی اقرار ہی نہیں کیا تھا) دماغ کے کسی کونے سے آواز آئی تھی۔بمشکل خود کو سنبھالتی وہ آخری نظر سامنے دائیں جانب بیٹھے شازب سکندر کی طرف ڈالتی کھانا کھانے لگی دل تو نہ تھا لیکن وہ کسی پر ظاہر نہیں ہونے دے سکتی تھے۔
“شازب بھائی کے بعد دُعا کی شادی ہوگی کیوں دعا؟”رومی نے چہک کر کہا۔
“مجھے ایسے گھٹیا مذاق بالکل پسند نہیں ضروری ہے کہ ایسے الفاظ منہ سے نکالنے سے پہلے سوچ لیا کرو۔”ایک تلخ مسکراہٹ اس کی طرف اچھالتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی رومی کو بالکل فرق نہ پڑا۔باقی سب کو اس کا لہجہ انتہائی برا لگا تھا۔رومی فخر سے گردن اکڑاتی کھانا کھانے لگی اور وہ تن فن کرتی وہاں سے نکل گئی۔آنسوؤں کا ایک گولا اس کے گلے میں اٹکا ہوا تھا جسے بہانا بھی تھا۔
ذمیہ ان کی باتیں سن رہی تھی مگر اس کا دماغ ان کے درمیان نہیں تھا۔وہ گم صم سی اٹھ کر باہر نکل گئی۔نویرہ نے تعجّب سے جبکہ دلاور شاہ نے غم سے اپنی بیٹی کو جاتے دیکھا۔
وہ باہر پول کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی،جب نویرہ اس کے پاس آکر دوسری کُرسی پر بیٹھی اور جھک کر اس کے چہرے کو دیکھا تو اس نے آبرو اچکا کر نویرہ کو دیکھا۔
“بتاؤ اب کیا سوچ رہی ہو؟”نویرہ نے اس کا ایک ہاتھ تھاما تو وہ اس کی طرف چہرہ کر گئی۔
“نویرہ میری بات دھیان سے سنو سولہ سال ہو چکے ہیں مجھے اس خواب کو آتے ہوئے اور یہ تب سے آرہا ہے جب سے ماما کی دیتھ ہوئی ہے اور جب گھر والوں سے پوچھتی ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ نیچرل دیتھ ہوئی تھی۔اور وہ گھر جو خواب میں آتا ہے وہ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور وہ زمین پر پڑا بےجان جسم اور اردگرد پھیلا ہوا خون اور کچھ افراد اور رات میں نے اُس آدمی کا چہرہ تھوڑا تھوڑا دیکھا اس کا بیضوی چہرہ تھا اور ٹھوڈی پر بال تھے لیکن کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں جاگ گئی۔”نویرہ اس کی بات خاموشی سے سن رہی تھی۔ذمیہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور تھوڑا آگے ہوئی۔
“اور مجھے جو کب سے خواب آرہا ہے تو یہ کیا پتہ کوئی حقیقت ہواور یہ خواب بار بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہا ہو تا کہ ہمیں حقیقت کا علم ہو جائے جس کا ہمیں علم نہیں۔” ذمیہ نے بات مکمل کی تو نویرہ نے اثبات میں سر ہلا کر اس کی تائید کی۔
“چلو ہم اس حقیقت کو بھی ڈھونڈتے ہیں پہلے تم دماغ سے یہ سب نکالو اور تم نے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتا کرتے سنا کہ شازب بھائی کہہ رہے تھے کہ وہ شادی کےلیے راضی ہیں۔”
“ہوں میں نے سنا چلو میری جان چھوٹے گی۔”نویرہ اس کا دھیان بٹانے میں کامیاب ہوگئی تھی پھر وہ دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا نے ہاسپٹل جانے کی بجائے گاڑی کو ساحل سمندر کے راستے موڑ لیا۔وہ ٹوٹے دل کے ساتھ سمندر کے کنارے چل رہی تھی،سمندر کی لہریں اس کے پاؤں کو چھوتیں واپس چلی جاتیں۔
آنسوؤں کا دریا الگ اس کے گال بھگو رہا تھا۔پینٹ ٹراؤزر کے ساتھ ڈھیلی سی گرین شرٹ پہنے وہ اپنے پیروں کی طرف دیکھتی چلی جارہی تھی۔
کیا نہیں تھا اس کے پاس خود کا ہاسپٹل تھا،خاموش طبع تھی،خود کی خواہشات عموماً خود ہی پوری کرنے والی تھی،وہ شازب سے بات نہیں کرتی تھی اگر کر بھی لیتی تو اپنے مزاج کے برعکس اس سے نرم لہجے میں بات کرتی تھی۔وہ خوبصورت تھی لیکن شازب نے اسے قبول نہیں کیا تھا کرتا بھی کیسے نہ کبھی شازب نے اس کے بارے میں سوچا اور نہ ہی خاندان والوں نے یہاں تک کہ اس کے والدین والوں نے بھی نہیں سوچا کیا وہ اس کی زندگی میں کہیں نہیں تھی شاید وہ نہیں تھی یا پھر شاید کسی نے اس کی جگہ لے لی تھی،وہ لڑکا سب سے الگ ہو کر بھی سب کا خیال رکھنے والا سب کو جاننے والا اس کے دل میں بسی خود کےلیے پسندیدگی نہ جان پایا۔
“تم بھی پاگل ہو دعا شاہ کوئی اتنا بھی پاگل ہوتا ہے۔”دعا نے خود کی ہی سوچوں کو جھٹک کر آنسو صاف کیے اور سمندر کی لہروں کو دیکھ کر دھیما سا مسکرائی۔
“یہ زندگی کس قدر حسین ہے اور ہم ایک غیر انسان کےلیے روز مرتے اور جیتے ہیں،ہم اس کی ندگی میں چاہ کر بھی شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ جس انسان میں خودداری ہو وہ دوسروں کے سروں پر مسلط نہیں ہوتا۔”وہ سوچ کر کھل کر مسکرائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رومی لان میں کھڑی فٹ بال کو پاؤں سے کک مار رہی تھی جب ایک بڑی گاڑی اندر داخل ہوئی اور سمائرہ اتر کر نیچے آئی۔رومی نے جھٹ سے فٹ بال کو چھوڑا اور سمائرہ سے زویان کو پکڑ کر واپس اپنی جگہ پر آگئی۔سمائرہ مسکراتی اندر چلی گئی۔ گاڑی کے اندر ہی بیٹھا عادل شیشے میں بالوں کو سیٹ کرتا باہر نکلا اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے رومی کی طرف بڑھا اور مؤدب طریقے سے سلام کیا۔
رومی نے سلام کا جواب دے کر اسے ایک نظر گھورا جو ہینڈسم تو لگ رہا تھا مگر رومی کو اس سے کیا فرق پڑتا تھا۔
“کیسی ہو؟” عادل نے اسے دوبارہ زویان کی طرف متوجہ دیکھ کر پوچھا اور اس کے حلیے کا جائزہ لیا۔
بلیک اینڈ وائیٹ لائننگ والا ٹراؤزر ساتھ بلیک ہی ٹی۔شرٹ زیب تن کیے،بالوں کو ڈھیلے سے بن میں قید کیے،جبکہ کچھ بال لٹوں کی صورت میں چہرے پر جھول رہے تھے۔وہ رف سے حلیے میں بھی عادل کو دل میں گھستی ہوئی محسوس ہوئی۔
“دیکھ لیں مسٹر عادت سے برعکس سوال کر رہے ہیں۔۔۔”رومی نے اسے بنا دیکھے جواب دیا۔عادل کو اس وقت زویان بھی بُرا لگ رہا تھا جس کی طرف وہ پوری طرح متوجہ تھی اور اسے بھاؤ ہی نہیں دے رہے تھی۔
“آپ تو سوال کی بات کر رہی ہیں ہم نے تو خودکا دل ہی بدل لیا۔”
“واہ کیا بات ہے کہیں عشق وشق تو نہیں کر بیٹھے؟”
“لگ تو یہی رہا ہے مگر فلحال محبّت ہے۔”
“کس کو پھنسالیا آپ نے؟”
“پھنسایا تو نہیں ہے لیکن کسی خوددار لڑکی نے مجھے پھنسالیا ہے۔”اُس نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا تو رومی کی زبان سے بےساختہ استغفار نکلا۔
“زویان تمہارے چاچو پاگل ہورہے ہیں شاید۔۔۔”وہ کہتی زویان کو لیے اندر چلی گئی،پیچھے وہ گہری سانس لیے کھڑا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں اگر آئی تو بتاؤں گی ورنہ خالہ کو فون پر ہی اطلاع دے دوں گی آپ فکر کیوں کرتے ہیں عادی بھائی۔”لاؤنج میں شازب، عادل،نویرہ اور ذمیہ بیٹھے ہوئے تھے۔نویرہ اور ذمیہ ساتھ ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ذمیہ کے کچھ فاصلے پر عادل بیٹھا ہوا تھا۔سامنے شازب سنگل صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ گود میں رکھے مصروف تھا،اور ایک نظر اندر ہی اندر ان دونوں پر بھی ڈال لیتا جو کہ آہستہ آہستہ باتوں میں مگن تھے،جبکہ نویرہ سونے کیلیے جمائیاں لے رہی تھی۔
“عادل تم اس جنگلی بلّی سے کچھ زیادہ ہی نہیں ملنے لگ گئے؟”شازب کے منہ سے اپنے بارے میں الفاظ سُن کر اس نے غصّے سے شازب کو دیکھا،پھر تھوڑا ضبط کر گئی۔اگر اس نے عادل کو گھسیٹا تھا پھر وہ کیوں نہیں یہ کر سکتی تھی۔عادل کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کہ اس سے پہلے ہی وہ بول پڑی۔
“عادی بھائی دیکھیں لوگ کیسے جل رہے ہیں۔”
“میں نے تم سے بات نہیں کی سو تم خاموش رہو۔”شازب لیکن یہ بات نہیں جانتا تھا کہ وہ ہمیشہ ہی لڑائی میں پہل کرتا تھا۔
“تم دونوں ہی خاموش رہو میں بات کر رہا ہوں نا۔”عادل نے ماتھا پیٹتے کہا،نویرہ اٹھ کر جاچکی تھی۔
“عادل میں تمہیں بہت دنوں سے اس کے ساتھ برداشت کر رہا ہوں،پتہ نہیں کیا جادو کرتی رہتی ہےجو تم بھی اسی کی سائیڈ پر ہوگئے ہو۔”شازب کو شاید آج اپنی جان عزیز نہ تھی۔
“اپنی حد میں رہیں مسٹر آپ ہونگے جادوگر۔”ذمیہ اٹھ کر چلائی تھی۔
“تم تو چپ کرو۔”عادل نے اسے خاموش کروانا چاہا۔
“ٹھیک ہے مسٹر عادل عمر شاہ آپ اُس رشتے کے بارے میں بھول ہی جائیں اور شادی تو میں نہیں کرواؤں گی۔”ذمیہ غصّے سے کہتی وہاں سے چلی گئی۔
“کون سا رشتہ اور تم کیا اس سرپھری سے شادی کر رہے ہو؟”شازب کو فکر لاحق ہوئی۔
“چپ کرو شاہ کوئی رشتہ نہیں۔”عادل بھی غصّے سے کہتا وہاں سے نکل گیا۔پیچھے شازب کسی کلائنٹ سے میٹنگ میں مصروف ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مُرید سائیں وہ لڑکی جس سے ہم نے وہ شہر کے بیچوں و بیچ والا ہاٹل لینے کی کوشش کی تھی وہ لڑکی شازب سکندر شاہ کو وہ بیچ کر آبروڈ چلی گئی ہے اگر ہم اس لڑکی کو پکڑ بھی لیں تو فائدہ نہ ہوگا اسی لیے آپ ہی کچھ بتائیں۔”
“ہوں! میں نے تمہیں اس کے بارے میں جاننے کو کہا تھا کیا پتہ کیا تم نے؟”اس آدمی نے پوچھا۔
“جی مرید سائیں وہ بابرشاہ جو کہ اپنے دور میں مشہور بزنس مین رہ چکا ہے اسے کا بیٹا ہے اور اس نے مزید محنّت کر کے مزید نام کمایا ہے اور یہی شاہ خاندان کا پہلا وارث ہے اور اس کا دماغ ہم سے کہیں آگے چلتا ہے اور اس کی کوئی کمزوری نظر نہیں آئی۔”
“پاگل ہوگئے ہو عاشر کیا تمہیں نہیں پتہ کہ فیملی ہی کمزوری ہوتی ہے اور اب ہم اس کی فیملی کو ہی اندر لائیں گے۔پتہ کرو اس کی فیملی میں کون کون ہے۔”
“سائیں اگر ہم اس کی فیملی پر گئے تو وہ سیدھا ہمیں اوپر پہنچائے گا،کیونکہ سائیں اس کے پرسنل میں جانے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔”عاشر نے مُرید کو دیکھا جو کہ اسگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔
“عاشر تو میرا وفادار ہے یا اس لڑکے کا اب میں جو کہوں گا تمہیں وہی فالو کرنا ہوگا اور آدھا حساب تو وجدان خود ہی لےلے گا ادھر بھی انہیں کا خاندان ہے نا؟”مُرید نے پوچھا۔
“ہممم سائیں۔”جس پر مُرید قہقہہ لگا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل کے سامنے دو گاڑیاں رکیں تو ذمیہ پہلی گاڑی سے نکل کر باہر آئی اور منہ بسور کر گارڈز کی فوج کو دیکھا جو کہ اُس کے ساتھ اندر بھی چلنے کو تیار تھے۔بلیک جین کے ساتھ بلیک گھٹنوں سے اوپر تک آتی ڈھیلی شرٹ پہنے،وائیٹ اسنیکرز اور پنک کلر کا ڈوپٹہ نفاست سے اوڑھے ہوئے وہ بلا کی خوبصورت لگ رہی تھی۔اس نے گارڈز کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود چل پڑی،ابھی دو قدم ہی وہ چلی تھی کہ کسی نے اس کے پاؤں کے قریب زور سے گاڑی کی بریک لگائی،اس اچانک آفتاد پر وہ دھڑام سی نیچے گری اور اس کا بازو زخمی ہوگیا اور اس کے گارڈز نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانے کی بھی جرأت نہ کی،وہ کراہتی ہوئی خود ہی اٹھی جہاں ایک خوبصورت نوجوان بلیو تھری پیس میں ملبوس تھا اور اس کے ساتھ اس کے بھی آدمی تھے۔
“ویسے شاباش ہے آپ پر بھی دیکھ کر نہیں چلا سکتے کیا؟” اس کے صاف شفاف چہرے پر درد کے تاثرات صاف دکھائی دے رہے تھے۔ وہ اپنے بازو کو جہاں سے خون بہہ رہا تھا ڈوپٹے کے کونے سے صاف کرتی اس لڑکے کو گھور رہی تھی۔
“صاحب آپ چلیں پتہ نہیں کہاں سے آجاتے ہیں غریب لوگ۔”اس کے آدمی نے کہا تو ذمیہ کی حیرت سے آنکھیں کھلیں کی بھئی اگر میں نے سر پر ڈوپٹہ اوڑھ رکھا ہے تو اس کا مطلب میں غریب ہوگئی میرے پیچھے گادڈز اورگاڑیاں غائب ہوگئی ہیں کیا؟”
“غریب ہوگئے تم تمہارا یہ صاحب ہوگا،تمہارا پورا خاندان ہوگا،ایک تو اندھوں کی طرح گاڑی چلائی الٹا مجھے ہی غریب بول رہے ہو،پتہ نہیں خیر۔”ذمیہ غصّے سے کہتی آخر میں خود ہی جھنجھلائی۔
“میم اگر آپ کہیں تو ہم ان کا علاج کرلیں۔”ذمیہ کے گارڈز میں سے ایک گارڈ آگے بڑھا ان کے ہاتھوں میں گنز تھیں۔وہاں موجود مخالف پارٹی کے لوگ بھی حیران ہوئے شاید ذمیہ کی سوچ کے عین مطابق وہ اس کے ڈوپٹہ لینے کی وجہ سے غلط فہم ہوگئے تھے۔
“واہ جب میں گری تب تو خیال نہ آیا اب آگئے کیا تم لوگوں کو مرنے مرانے کےلیے ہی رکھا گیا ہے یا مرنے والے کی جان بچانے کو بھی اب یہیں پر رہو۔”ذمیہ پوری طرح تپ چکی تھی۔گارڈز نے شرمندگی سے سر جھکایا بات تو وہ صحیح کہہ گئی تھی۔وہ ایک نظر اس لڑکے کو گھورتی جو اتنے وقت منہ سے ایک لفظ بھی نہ بولا تھا بس اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ ہی دیکھ رہا تھا اور اندر چلی گئی۔وہ بھی کندھے اچکاتا اندر بڑھ گیا۔
وہ سیدھا جیسے ہی دعا کے کمرےمیں گئی تو پہلے ہی اس کے سامنے کوئی بیٹھا ہوا تھا، وہ اسے دیکھے بنا جھٹ دعا کو پکار گئی۔
“دعا ذرا میری پٹّی کردو دیکھو چوٹ لگ گئی ہے۔ “اس کی آواز پر دعا چونک کر اس کی طرف بڑھی۔
“یہ کیسے لگی ذمیہ؟ “اس نے فکرمندی سے پوچھا اور اس کا بازو دیکھا جہاں خون رس رہا تھا۔ وہ اپنے ٹیبل کی طرف بڑھی اور جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر اس کا خون صاف کرنے لگی۔
“پتہ نہیں کوئی بدتمیز مل گیا تھا۔ “ذمیہ نے اک ادا سے کہہ کر جب اس شخص کو دیکھا تو آنکھیں اُس کی حیرت کے مارے پھیلیں۔
“یہی تھا دعا یہ یہاں کیا کررہا ہے؟ “دعا نے دیکھا تو اس پر ماتم کیاوہ لڑکا بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“شرم کرو ہر کسی سے لڑنے لگ جاتی ہو،پیشینٹ ہے بدھو۔” دعا نے اسے دبی آواز میں ڈپٹا لیکن صاف آواز ہاشم شاہ کے کانوں میں بھی سنائی دے گئی تھی۔
“میں نہیں لڑتی بلکہ کھڑوس قسم کے لڑکوں کو مجھ سے لڑنے کا شوق رہتا ہے۔ “آبرو اچکا کر وہ کہتی ہاشم کے ساتھ ساتھ عادل اور شازب کو بھی گھسیٹ چکی تھی۔ہاشم جو کہ سر درد کی دوا لینے آیا تھا ان دونوں کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا جبکہ دعا اسے بہت ہی زیادہ پسند آئی تھی۔
“کیا کرنے آئی تھی تم یہاں؟” دعا نے پٹی کرکے مصروف سےانداز میں پوچھا۔
“میں وہ۔ وہ تم سے ملنے آئی تھی۔ “وہ بمشکل مسکراتی بہانہ بنا چکی تھی۔
“اب جاؤ شاباش۔ “دعا نے اسے بھیجا تو وہ ایک نظر ہاشم پر ڈالتی باہر نکل گئی۔ دعا نے ہاشم سے معذرت کی تو وہ خجّل سا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شازب کچھ دنوں کیلیے ملک سے باہر گیا ہوا تھا اسی لیے ہر کوئی سکون کا سانس لے رہا تھا اور ہر طرف چہل پہل تھی۔
“شاہ بی بی کوئی سامان زبردستی اندر گھسانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک عورت بھی ہیں جو کہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کے جاننے والی ہیں۔”گارڈ نے اندر آکر شاہ بی بی کو بتایا تو شاہ بی بی کو جاننے میں دیر نہ لگی۔انہوں نے انہیں گھیسٹ روم میں بٹھانے کا حکم دیا اور خود بھی اٹھ گئیں۔
جیسے ہی وہ گیسٹ روم میں داخل ہوئیں توقع کے عین مطابق امتل بیگم ہی وہاں بیٹھی نظر آئیں جبکہ امتل بیگم حیران تھیں۔دونوں عقیدت سے گلے ملیں۔آہستہ آہستہ لوازمات کے ساتھ گھر کے آدھے افراد بھی گیسٹ روم کے صوفوں پر براجمان ہوچکے تھے۔
“نسیم(شاہ بی بی) یہ تیرے گھر پہ اتنے بہرے کیا کر رہے ہیں؟”امتل بیگم نے ٹھوڈی تلےمٹھی سجائے ہونق بنے کہا جبکہ سب افراد نے ہنسی روکی جو کہ گارڈز کو پہرے کہہ رہی تھیں۔حالانکہ وہ خود بھی حویلی سے ہی تھیں ان کے پوتے بھی گارڈز لیے پھرتے تھے مگر شاید انہوں نے گھر میں نہیں رکھے تھے۔
“بڑی امّاں جی وہ گارڈز ہیں بہرے نہیں ہیں۔”ماریہ بیگم نے توصحیح کی۔
“بڑی دادو آپ کتنے دنوں کیلیے یہاں آئی ہیں؟المیشا نے تجسس سے پوچھا۔
“نہ تو کہتی ہے تو میں ابھی چلی جاتی ہوں۔”امتل بیگم برہم ہوئیں۔
“بڑی امّاں آپ بُرا نہ مانیں بچّی تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔”سُہانہ بیگم نے المیشا کو گھور کر جواب دیا تو وہ وہیں خاموش ہوگئی۔
امتل بیگم ذمیہ کو غور غور سے دیکھ رہی تھیں اور شاید اس بات کو ذمیہ کے ساتھ ساتھ شاہ بی بی نے بھی نوٹ کیا تھا۔
“بڑی دادو اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں؟”ذمیہ نے اجازت لی اُسے ڈر تھا کہیں وہ بُرا ہی نہ مان جائیں۔
“ہاں پوچھ پُتر۔”اجازت دی گئی۔
ماشاءاللہ آپ جوان، خوبصورت ہیں اور بولتی بھی پیارا ہیں اس خوبصورتی کا راز تو بتادیں،دیکھیں نا آپ بوڑھی لگ ہی نہیں رہیں۔”
“بس میں کیا ہی بتاؤں تمہارے بڑے دادا جی کے پیار نے بوڑھا ہونے ہی نہیں دیا۔”امتل بیگم نے مصنوعی شرماہٹ سے کہا جبکہ سب کا قہقہہ ضبط کر کے چہرے کی رنگت سُرخ پڑ گئی تھی۔
“واؤ! اس قدر محبّت دادو۔”دانیال نے چھیڑا۔
“چل ہٹ دادی کے ساتھ مذاق کرتا ہے۔”امتل بیگم نے ڈپٹا۔
“بڑی دادو تو آپ بڑے دادا کو بھی لے آتیں ساتھ۔”المیشا نے اپنے تک سمجھداری سے کہا۔
“چلو سب بچّے کھیلو جاکر باہر۔”سُہانہ بیگم نے بات ختم کرتے اُنہیں باہر بھیجا۔
“ہاہاہا۔”سب باہر آکر ہنسنے لگ گئے۔
“دیکھا دادو کیسے شرما رہی تھیں۔”ذمیہ نے نویرہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے کہا۔
“توبہ توبہ۔ “نویرہ نے بھی کانوں کو ہاتھ لگایا۔
“تم لوگ کیوں گدھوں کی طرح ہنس رہے ہو؟”دائم نے لان میں آتے کہا۔
“دائم بھائی گدھے ہنستے نہیں ہیں۔”نویرہ نے جواب دیا۔
“اوہ! لیکن میں نے تو آج دیکھ لیا۔”اُس نے تاسف سے کہا۔
“اوووو تو پھر چھوٹے چوزے کیوں اندر ناک گھسا رہے ہیں؟”ذمیہ نے تپ۔کر دوبدو کہا۔
“بہت ہی زیادہ زُبان چلری ہے تمہاری۔”
“مگر یہاں کم کس کی ہے۔”ذمیہ کے بولنے سے پہلے ہی نویرہ بول پڑی۔
“تم اپنی زُبان بند رکھو پہلے مجھے اس سے نمٹنے دو۔” ہایے ذمیہ کی قسمت جس کی زندگی میں اس کے کزنز ہی اس سے لڑائی کے ہر وقت خواہشمند رہتے۔
“نمٹ لو آجاؤ تم بھی آج۔”ذمیہ نے نویرہ کو سائیڈ پہ کر کے ڈوپٹے کو صحیح سے سر پر ٹکایااور کہنیوں تک بازو فولڈ کیے۔
“حضرات دائم بھائی اور ذمیہ آپی جنگ کیلیے آمنے سامنے میدان میں اُتر آئے ہیں۔”المیشا نے اونچی آواز میں مٹھی کو مائیک کی طرح بند کر کے منہ کے آگے کرتے ہانک لگائی۔
“تم تو چپ کرو فری کا سوشل میڈیا۔”دانیال نے اس کے بازو پر چپت لگائی تو وہ منہ بناتی خاموش ہوئی۔
“اب بتاؤ کیا مصیبت ہے تمہیں؟”
“مجھے کوئی مصیبت نہیں ہے لیکن تم جنگلی بلّی ہو۔”
“تم ہو گے جنگلی لومڑ اور وہ تمہارے ساتھ والے بھی دونوں۔”ہمیشہ کی طرح ذمیہ نے اُن دونوں کو بھی گھسیٹا جو کہ غیر حاضر تھے۔رومی بھی شور سُن کر لان کے پچھلے حصّے سے آگئی تھی۔
“اب دیکھنا تم میں شازب کو بتاؤں گا۔”
“جاؤ جاؤ بتانا ہے جس کو پھی بتاؤ لیکن میرے ساتھ چونچ مت لڑاؤ۔”
“واہ واہ!کیا شعر ہے۔”المیشا نے داد دی۔
“یہ شعر نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا کے دو نمبر شاعروں کا شعر ہے۔”
“اچھا!”المیشا نے دانیال کی پات پر سانس خارج کی جو اُسے ڈپٹنے میں ہی لگا ہوا تھا۔
“میں لڑاتا ہوں تمہارے ساتھ چونچ؟”دائم آگ بگولہ ہو کر آگے بڑھا۔تبھی ذمیہ کے موبائل پر کسی کی کال آئی اُس نے جلدی سے کال پک کی۔
“تم سب لڑکوں کو ہم لڑکیوں کی خوشیاں نصیب ہی نہیں ہوتیں،اسی لیے جلتے رہتے ہو۔”ذمیہ اُسے جواب دے کر دوسری طرف بڑھ گئی۔جبکہ فون کے اُس طرف وہ سوچ کر ہی رہ گیا کہ اس لڑکی کو لڑنے کے سِوا کوئی کام نہیں ہے۔باقی سب بھی چلے گئے۔
“السلام علیکم!”ذمیہ نے بنا نمبر دیکھے سلام کیا۔
“وعلیکم سلام”دوسری طرف سے غیر شناسا مردانہ بھاری آواز آئی۔
“کون؟”ذمیہ نے ایک نظر اسکرین کو دیکھا پھر اپنی جلدبازی پر شرمندہ ہوئی۔
“ہم پہلے بھی مل چکے ہیں آپ سے ایک کام تھا۔”جبکہ وہ حیرانگی سے ادھر اُدھر ٹہل رہی تھی۔
“اچھا تو پھر بتا بھی دیں کہ کہاں ملے تھے؟”ذمیہ نے بیزارگی سے کہا۔
“ہاسپٹل کے باہر۔”
“اووو تو آپ وہ مسٹر ہیں۔”ذمیہ نے یاد آتے کہا۔
“جی جی!”
“چلیں جو آپ کو کام ہے وہ بتادیں میں زرا مصروف ہوں۔”
“اوکے۔”ہاشم نے ایک گہری سانس خارج کر کے ساری بات بتائی تو ذمیہ آگ بگولہ ہوئی۔
“فلحال میں آپ کی ایسی کوئی مدد نہیں کرسکتی پھر کبھی یاد کیجئے گا۔ شکریہ!”ذمیہ نے کھٹاک سے فون بند کردیا جبکہ ہاشم فون کو گھورتا ہی رہ گیا۔
“آیا بڑا۔”ذمیہ بڑبڑاتی اندرچلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذمیہ سیب ہاتھ میں پکڑے ہال کے ایک طرف کُرسی پر بیٹھی،کُرسی کی پشت پر بازو ٹکائےہال میں بیٹھی عورتوں کی باتوں میں مگن تھی،ساتھ ہی دوسری کُرسی پر نویرہ بھی بیٹھی ہوئی تھی۔
“رومی یار کہہ دو نا، بابا ورنہ ناراض ہونگے۔” رومی نخرے دکھاتی آگے آگے ہال میں داخل ہوئی تھی اور دائم اُس کی منتیں کرتا پیچھے پیچھے تھا۔
“مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا دائم خود ہی کہہ لو۔”رومی نے اُس کی طرف پلٹ کر صفا چٹ جواب دیا۔ذمیہ شوخ نگاہوں سے اُنہیں دیکھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ سیب کی بھی بائیٹ لے لیتی۔
“کیا ہوا ہے کیوں بحث کر رہے ہو تم دونوں؟”ماریہ بیگم نے پوچھا۔
“ماما دیکھیں آج میں آفیس نہیں گیا رومی کو کہیں کہ یہ بابا کو کوئی بہانہ لگا دے ورنہ میری پٹائی پکّی ہے۔”دائم نے ماریہ بیگم کے قریب بیٹھتے اُن کے گال پر ہاتھ رکھتے کہا۔
“السلام علیکم!”ابرار شاہ سلام کہتے اندر داخل ہوئی۔ابرار شاہ کو دیکھ کر جہاں دائم کا خون خشک ہوا تھا وہیں ذمیہ کے چہرے پر پُرسکون تاثرات تھے۔ابرار شاہ پہلے امتل بیگم سے مل کر وہیں بیٹھ گئے۔
شاید اُن کی کچھ طبیعت میں تھکان تھی تبھی وہ جلدی آگئے تھے۔
“دائم تم مجھے کچھ دیر بعد میرے کمرے میں ملنا۔”ابرار شاہ کی آواز نے اُسے اندر تک مار دیا تھا اور وہ جلدی سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“بڑی امّاں اور بتائیں گھر میں سب کیسے ہیں؟”ابرار شاہ امتل بیگم کی طرف متوجہ ہوگئے۔
تبھی تین چار گاڑیاں پورچ میں آرکی تھیں۔اور وہ شان بےنیازی سے چلتا اندر داخل ہوا تھا۔
بلیک پینٹ ڈریس کے ساتھ بلیک ہی کوٹ ہاتھ میں لٹکانے کے انداز میں پکڑے،بلیک بالوں کو جیل سے سیٹ کیے،جبکہ معمول کے مطابق مخصوص انداز میں کچھ بال ماتھے پر بکھیرے ہوئے تھے۔وہ ہینڈسم سا شخص کالی آنکھوں میں گہرا سنجیدہ پن سموئےاندر آیا اور ہال میں بیٹھے نفوس پر ایک نظر ڈالی اور پھر ایک نظر اس پر ڈالی جو کہ بلیو کُرتے اور وائیٹ ٹراؤزر میں بلیو ہی ڈوپٹہ سر پر اوڑھے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی،اور اُس کی بھی گول گول آنکھیں اُسی کا جائزہ لے رہی تھیں۔
وہ امتل بیگم سے ملتا ایک بھرپور نظر اس پر ڈالتا سیڑھیاں چڑھ گیا ذمیہ نے ناگواریت سے اُس کی پشت کو دیکھا جو اس بات کی نشاندہی