The novel Rooh Ka Makeen by Bina Khan is a romantic Urdu novels pdf, written by a famous Pakistani novelist Bina Khan. You can download or read this novel online complete from here in PDF format.
Novel: Rooh Ka Makeen
Writer: Bina Khan
Status: Completed
Intresting Part Of Rooh Ka Makeen
مرال سارا دن گھر میں ایک مشین بن کے رہ گئی تھی جو کام کرتی کھاتی سوتی بس اس کے علاوہ جیسے اس کی زندگی میں کچھ تھا ہی نہیں نا کوئی مقصد تھا زندگی کا
وہ دو دن سے اپنے گھر آئی ہوئی تھی آج سنڈے تھا بابا والے بھی گھر پہ تھے وہ کچن میں کام کر رہی تھی کہ ماما چلی آئیں
” مرال بیٹا نات سنو” وہ چونکی جیسے کسی گہرے خیال میں گم ہو
” جی” وہ بولی ماما نے اسے غور سے دیکھا وہ بہت کمزور ہو گئی تھی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے سرخ و سفید رنگت میں جیسے زردیاں سی گھل گئی تھیں
” آؤ بیٹھو یہاں” وہ اسے لے کر کرسی پہ بیٹھیں
” بیٹا کب تک ایسے رہو گی…..” انہوں نے اس کے چہرے کو دیکھا جو کبھی صرف ہنستا مسکراتا ملتا تھا اور آج جیسے ہنسنا ہی بھول گیا تھا
“کب تک اس کے جانے کا سوگ مناؤ گی بھول جاؤ سب اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرو” اس نے ان کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھا
” ہاں بیٹا اسی میں ہی عقلمندی ہے….. کسی ایک کے چلے جانے سے زندگی نہیں رک جاتی بیٹا…..” مرال کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
” ارے رو رہی ہو….. تم تو میری بہادر بیٹی ہو نا پھر یہ کیوں” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں
” میں….. میں ماما میں کچھ.. کچھ نہیں کرسکتی ماما میں تو ایک عام سی لڑکی…..” وہ رو رہی تھی
” کس نے کہا میری بیٹی کچھ نہیں کرسکتی ہاں کس نے کہا میری بیٹی عام لڑکی ہے….. مجھ سے پوچھو میں بتاتا ہوں میری بیٹی کیا ہے” بابا کچن میں آئے وہ مرال کی بات سن چکے تھے
” میری بیٹی وہ ہے جس نے اپمے ماں باپ کو تب سنبھالا جب اس کا باپ ہارٹ پیشنٹ بن گیا تھا ماں بیمار رہنے لگی تھی تو میری بیٹی نے اپنی پڑھائی کمپلیٹ ہونے کے بعد آگے بڑھنے کے بجائے ہمیں امپورٹنس دی….. جو آج تک ہمیں سنبھال رپی ہے جو ہمیں کبھی تکلیف دینے کا سوچ ہی نہیں سکتی جو ہم ماں باپ کا مان اور فخر ہے” وہ اسے گلے لگا کر رندھی ہوئی آواز میں بولے تو وہ اور رونے لگی
” نا میرا بچہ میرا بیٹا” انہوں نے اس کے آنسو صاف کیے اور اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور اسے گلے لگایا
” میری ایک بات مانو گی؟؟؟” بابا بولے اس نے ہاں میں سر ہلایا
” صرف ہمارے لیے پھر سے ہماری مرال بن جاؤ گی” وہ ان کی طرف دیکھنے لگی
” بابا میں مر گئی بابا” وہ بولی تو ماما بھی رونے لگی
” میرو تم میری پہلی اولاد ہو جس نے سب سے پہلے آکے ہماری زندگی کو مکمل بنایا ہمیں مکمل کیا….. اگر تم ہی مر گئی تو ہم.جی کر کیا کریں بیٹا ہمیں بھی تو پھر…..”
” نہیں بابا نہیں” مرال نے ان کو ایک دم روکا ” بابا آپ لوگوں کو آپ کی میرو چاہیے نا ضرور ملے گی آپ کو آپ کی میرو”
” پرامس” بابا نے ہاتھ بڑھایا تو اس نے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے کہا ” پرامس” اور نم آنکھوں سے مسکرادی.
——
” تم نے شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے ربیکا” وہ دونوں آج لنچ پہ آئے تھے لنچ کے دوران جبران نے اس سے پوچھا
” شادی؟؟؟ ہاہاہااااہاہاہاہا” وہ ہنسنے لگی
” آر یو کریزی جبران”
” اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے جسٹ پوچھا ہے میں نے”
” تو کچھ ڈھنگ کا ہی پوچھ لیتے….. پوچھا بھی کیا شادی کا افففففف”
” یار ایک لائیف تو ملی ہے شادی کر کے کون باؤنڈ ہونا چاہے گا”
“اس میں باؤنڈ ہونے کی کیا بات ہے اچھا اور جائز رشتہ ہے”
” اففففف جبران تم ایسی باتیں کر کے کیوں بار بار بتاتے ہو کہ تم پاکستانی ٹپیکل مرد ہو”
” بوائے فرینڈ گرل فرینڈ میں بھی تو وہی رشتہ ہوتا ہے نا جو ہزبینڈ وائف میں ہوتا ہے تو پھر شادی کر کے کیوں زندگی کو خراب کریں”
” ربیکا بوائے اینڈ گرل فرینڈ کا رشتہ ایک ناجائز رشتہ ہوتا ہے شادی شدہ لائف کی اپنی ایک خوبصورتی ہوتی ہے” وہ اسے سمجھانے لگا
” تو یہ خوبصورت لائف اپنی بیوی کے ساتھ گزارتے نا یہاں کیا کر رہے ہو” جبران اس کی بات پہ کچھ دیر تو بول ہی نا سکا پھر بولا
” وہ میرے ٹائپ کی نہیں تھی”
” تو پھر کون ہے تمہارے ٹائپ کی؟؟؟” ربیکا نے پوچھا
” تم…..” جبران فوراً بولا
” واااٹ….. میں اور تمہارے ٹائپ کی ہونہہ نو وے”
” کیوں تم کیوں نہیں ہو؟؟؟”
” بیکاز تمہاری سوچ اور میری سوچ بہت الگ ہے”
” سوچ کو ایک جیسا بنایا بھی تو جا سکتا ہے نا”
” کچھ اور بات کرو جبران”
” میں سچ کہہ رہا ہوں ربیکا تم جیسی ہی لڑکیاں مجھے اٹریکٹ کرتی ہیں تم میں ایک بولڈنیس ایک کانفیڈینس ہے جو مجھے اچھا لگتا ہے”
” اففففف انف جبران بس کرو لنچ پہ لائے ہو تو سکون سے لنچ کرنے بھی دو” وہ چڑ گئی تو وہ خاموش ہو گیا.
—–
“ہاں یار یہ جبران کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے آج کل” ربیکا کسی سے فون پہ بات کررہی تھی اور غصے سے جبران کے بارے میں بتا رہی تھی ابھی جبران اسے گھر ڈراپ کر کے گیا تھا کہ اس کا فون بجا آگے سے پتا نہیں کیا کہاں گیا کہ وہ بولی
” آئی نو یار میں بک ہوں بٹ….. میں نے اسے کہا بھی کہ میں تمہاری گرل فرینڈ بن جاتی ہوں بٹ پتا نہیں اسے کیا شادی کا شوق پڑا ہے” پھر کچھ کہا گیا
” اوکے پھر ملتے ہیں رات کو تمہارے ساتھ اور کون آئے گا” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھی
” ہمممم اوکے ٹھیک ہے” کہہ کر اس نے فون رکھ دیا اب رات کے لیے اسے تیار ہونا تھا سب کے بے حد اصرار پہ مرال نے اپنے بابا کا آفس جوائن کرلیا تھا جبران تو تھا نہیں سو اب وہ ہی آفس کی زمہ داری سنبھالنے لگی تھی اس کی لائف ایک دم سے بہت مصروف ہو گئی تھی اور اس روٹین نے اس کی شخصیت پہ بہت اچھا اثر ڈالا تھا وہ اب پروقار عورتوں میں شمار کی جانے لگی تھی اس کی ڈریسنگ اس کی گریس اتنی زبردست تھی کہ سامنے والا دیکھتے ہی مرعوب ہو جاتا وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی کمپنی کی باگ ڈور اس نے تھام لی تھی
اب وہ جبران کو اپنا ماضی سمجھ کے بھول جانا چاہتی تھی اور کافی حد تک کامیاب بھی تھی وہ اب وہ مرال نہیں رہی تھی جو کبھی اک ہاری ہوئی عورت لگتی تھی
ماما بابا نے تو خلع پر بہت زور دیا پر وہ نا مانی بھلا کوئی جانتے بوجھتے جسم سے روح کو جدا کرنے کا سوچ سکتا ہے….. نہیں نا؟؟؟ تو پھر تو وہ اس کی روح کا مکین تھا اسے اپنے سے جدا کردیتی تو وہ خود زندہ رہتی؟؟؟